جذام: کیا یہ قہر خداوندی ہے؟
واپس چلیں

ایس ایس علی
اپریل 2014

جذام ایک قدیم متعدی مرض ہے جو سلاخ نما جرثومے (Mycobacterium Leprae) کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ اس جرثومے کی دریافت Gerharde Armauer Hansen نے کی تھی، اس لئے اسے Hansen's Disease بھی کہتے ہیں۔ ہندوستان میں اسے کُشٹ روگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ موروثی مرض نہیں ہے۔ جذام کے مرض میں جسم کے محیطی اعصاب شدید طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ جلد، عضلات، آنکھیں، ہڈیاں، جنسی اعضاء اور جسم کے اندرونی اعضاء بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اگر علاج نہ کیا گیا تو یہ مرض خوفناک صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس کا علاج ممکن ہے۔ جذام کا مرض دو شکلوں میں لاحق ہوتا ہے:

  1. (1) غیر متعدی (Non-Lepromatus) جذام، اس کی مزید دو قسمیں ہیں:
    • (i) جلد پر بغیر داغ کا جذام
    • (ii) جلد پر داغ کے ساتھ جذام
  2. (2) متعدی (Lepromatus) جذام

بہتر علاج اور احتیاطی تدابیر کے نتیجہ میں جذام اس کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

جذام کی تاریخ

تاریخی طور پر جذام کی موجودگی کے ثبوت قدیم مصر میں 4000 ق م تک ملتے ہیں۔ 460 ق م میں بقراط (Hippocrates) اس مرض کو زیر بحث لایا تھا۔ چین، مصر اور ہندوستان کی قدیم تہذیبوں میں اس کے ثبوت ملتے ہیں۔ یروشلم کے قدیم شہر کی ایک بہت پرانی قبر سے نکالے گئے انسانی باقیات میں جذام کا ثبوت ملا ہے۔ ریڈیوکاربن کے طریقے سے ان باقیات کی عمر 1 سے 50 سنہ عیسوی کے درمیان تسلیم کی گئی ہے۔

اس مرض کا نام Leprosy، یا تو ہند یوروپی لفظ Lap سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں چھلکا یا پوست کا جسم سے خارج ہونا، یا پھر یہ یونانی لفظ Lepra سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں چھلکا (Scale)۔

ماضی میں جذام کے مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ قرونِ وسطیٰ کے یوروپ میں ان مریضوں کو ان کی مرضی کے خلاف جذامیوں کی بستیوں (Leper Colonies) میں رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ انہیں اپنی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے ساتھ گھنٹی رکھنی ہوتی تھی۔ چین، جاپان اور ہندوستان میں بھی لگ بھگ یہی صورتِ حال تھی۔ ہندوستان میں آج بھی ایک ہزار سے زیادہ Leper Colonies موجود ہیں۔ ان مریضوں کا علاج آرسینک (Arsenic)، روغن قطران (Creasote)، پارہ (Mercury) اور ہاتھی دانت سے کیا جاتا تھا۔

جذام کے ذمہ دار جرثومے Mycobacterium Leprae کی دریافت G.H. Armauer Honsen نے ناروے میں 1873 میں کی۔ 1940 کی دہائی میں Promin نامی دوا استعمال کی گئی جو پہلی موثر دوا ثابت ہوئی۔ 1950 کی دہائی میں Dapsone نامی دوا متعارف ہوئی۔ یہ دوا Promin سے زیادہ مؤثر تھی۔ جذام مخالف زیادہ پُر اثر دوائیوں کی تلاش جاری رہی جس کے نتیجے میں 1960 کی دہائی میں Clofazimine اور 1970 کی دہائی میں Rifampicin نامی دوائیاں منظر عام پر آئیں۔ شانتارام پاولکر نامی ہندوستانی سائنسداں اور ان کی ٹیم نے ایک طریقہئ علاج دریافت کیا جس میں Rifampicinاور Dapsone کی ملی جلی خوراک تجویز کی گئی جس سے مرض کے جراثیم میں کسی ایک دوا کے لئے قوتِ مزاحمت (Resistance) پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کیا گیا۔

نوٹ
  • رسالے میں شائع شدہ تحریروں کو بغیر حوالہ نقل کرنا ممنوع ہے۔
  • قانونی چارہ جوئی صرف دہلی کی عدالتوں میں کی جائے گی۔
  • رسالے میں شائع شدہ مضامین میں حقائق واعداد کی صحت کی بنیادی ذمہ داری مصنف کی ہے۔
  • رسالے میں شائع ہونے والے مواد سے مدیر،مجلس ادارت یا ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اب تک ویب سائٹ دیکھنے والوں کی تعداد   135546
اس ماہ
Designed and developed by CODENTICER development