جذام : کیا یہ قہر خداوندی ہے
واپس چلیں

ایس ایس علی
جنوری 2014
جذام : کیا یہ قہر خداوندی ہے؟
جذام ایک قدیم متعدی مرض ہے جو سلاخ نما جرثومے (Mycobacterium Leprae) کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ اس جرثومے کی دریافت Gerharde Armauer Hansen نے کی تھی، اس لئے اسے Hansen's Disease بھی کہتے ہیں۔ ہندوستان میں اسے کُشٹ روگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ موروثی مرض نہیں ہے۔ جذام کے مرض میں جسم کے محیطی اعصاب شدید طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ جلد، عضلات، آنکھیں، ہڈیاں، جنسی اعضاء اور جسم کے اندرونی اعضاء بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اگر علاج نہ کیا گیا تو یہ مرض خوفناک صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس کا علاج ممکن ہے۔
جذام کا مرض دو شکلوں میں لاحق ہوتا ہے:
(1) غیر متعدی (Non-Lepromatus) جذام،
اس کی مزید دو قسمیں ہیں:
(i) جلد پر بغیر داغ کا جذام
(ii) جلد پر داغ کے ساتھ جذام
(2) متعدی (Lepromatus) جذام
بہتر علاج اور احتیاطی تدابیر کے نتیجہ میں جذام اس کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

جذام کی تاریخ
تاریخی طور پر جذام کی موجودگی کے ثبوت قدیم مصر میں 4000 ق م تک ملتے ہیں۔ 460 ق م میں بقراط (Hippocrates) اس مرض کو زیر بحث لایا تھا۔ چین، مصر اور ہندوستان کی قدیم تہذیبوں میں اس کے ثبوت ملتے ہیں۔ یروشلم کے قدیم شہر کی ایک بہت پرانی قبر سے نکالے گئے انسانی باقیات میں جذام کا ثبوت ملا ہے۔ ریڈیوکاربن کے طریقے سے ان باقیات کی عمر 1 سے 50 سنہ عیسوی کے درمیان تسلیم کی گئی ہے۔
اس مرض کا نام Leprosy ، یا تو ہند یوروپی لفظ Lap سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں چھلکا یا پوست کا جسم سے خارج ہونا، یا پھر یہ یونانی لفظ Lepra سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں چھلکا (Scale)۔
ماضی میں جذام کے مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ قرونِ وسطیٰ کے یوروپ میں ان مریضوں کو ان کی مرضی کے خلاف جذامیوں کی بستیوں (Leper Colonies) میں رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ انہیں اپنی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے ساتھ گھنٹی رکھنی ہوتی تھی۔ چین، جاپان اور ہندوستان میں بھی لگ بھگ یہی صورتِ حال تھی۔ ہندوستان میں آج بھی ایک ہزار سے زیادہ Leper Colonies موجود ہیں۔ ان مریضوں کا علاج آرسینک (Arsenic) ، روغن قطران (Creasote)، پارہ (Mercury) اور ہاتھی دانت سے کیا جاتا تھا۔
جذام کے ذمہ دار جرثومے Mycobacterium Leprae کی دریافت G.H. Armauer Honsen نے ناروے میں 1873 میں کی۔ 1940 کی دہائی میں Promin نامی دوا استعمال کی گئی جو پہلی موثر دوا ثابت ہوئی۔ 1950 کی دہائی میں Dapsone نامی دوا متعارف ہوئی۔ یہ دوا Promin سے زیادہ مؤثر تھی۔ جذام مخالف زیادہ پُر اثر دوائیوں کی تلاش جاری رہی جس کے نتیجے میں 1960 کی دہائی میں Clofazimine اور 1970 کی دہائی میں Rifampicin نامی دوائیاں منظر عام پر آئیں۔ شانتارام پاولکر نامی ہندوستانی سائنسداں اور ان کی ٹیم نے ایک طریقۂ علاج دریافت کیا جس میں Rifampicinاور Dapsone کی ملی جلی خوراک تجویز کی گئی جس سے مرض کے جراثیم میں کسی ایک دوا کے لئے قوتِ مزاحمت (Resistance) پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کیا گیا۔
1981میں WHO نے Dapsone ، Clofazimine اور Rifampicin کو ملاکر ملٹی ڈرگ تھراپی (MDT) کی سفارش کی جو کافی مؤثر ثابت ہوئی۔ MDT کی خوراکوں میں آج بھی یہی تینوں دوائیں استعمال ہورہی ہیں۔
1995 میں WHO کے سروے کے مطابق 2 سے 3 ملین لوگ جذام کی وجہ سے معذور (Disabled) ہوگئے تھے۔ گذشتہ 20 برسوں میں 15 ملین مریضوں کا کامیابی کے ساتھ علاج کیا گیا ہے۔

جذام کے مرحلے
جذام کے تین مرحلے ہوتے ہیں۔

پہلا مرحلہ:۔
جلد پر چھوٹے چھوٹے داغ ظاہر ہوتے ہیں جن میں قوتِ احساس بہت کم ہوتی ہے۔

دوسرا مرحلہ:۔
چہرے کی جلد موٹی اور جھرّی دار ہوتی ہے۔ کانوں پر سوجن آجاتی ہے۔ پوری جلد پر گانٹھیں نکل آتی ہیں۔ اس لئے یہ گانٹھوں کا مرض (Granulomatus) کہلاتا ہے۔ ان گانٹھوں سے مسلسل مواد خارج ہوتا ہے۔ اس مواد میں جذام کے جراثیم کثیر تعداد میں شامل ہوتے ہیں۔

تیسرامرحلہ:۔
اس مرحلے میں انگلیاں اور پنجے ٹیڑھے ہوجاتے ہیں۔ ان کے بیرونی سروں پر ناسور (Ulcer)پیدا ہوجاتا ہے۔ انگلیوں کے سرے گل کر جھڑنے لگتے ہیں۔ انگلیاں اور پنجے مکمل طور پر غائب بھی ہوسکتے ہیں۔
جذام کا پھیلاؤ
جذام کے پھیلاؤ کے ذمہ دار دو قسم کے جراثیم ہیں:
(1) Micobacterium Leprae
(2) Micobacterium Lepromatosis

M. Lepromatosis حال ہی میں دریافت شدہ جرثومہ ہے۔ 2008 میں متعدی جذام (Lepromatus) کے ایک جان لیوا مرحلے میں اس جرثومہ کو دریافت کیا گیا۔ دونوں قسم کے جراثیم کو تجربہ گاہ میں کلچر کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ان کی شناخت اور ان کے خلاف حتمی علاج کی دریافت بھی بہت مشکل ہے۔ البتہ دوسرے حیوانات میں ان کی نشوونما ہوسکتی ہے۔
جذام کا مرض ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ہوا میں M. Laprae موجود ہوتے ہیں۔ تنفس کے دوران وہ جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جذام کے دوسرے مرحلے میں مبتلا مریض سے قریبی تعلقات کی بنا پر اس مرض کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔ یہ تعلق براہِ راست یعنی جلد سے جلد کا بھی ہوسکتا ہے اور بالواسطہ تعلق بھی ہوسکتا ہے جیسے مریض کے رہنے کی جگہ کی مٹّی، اس کے کپڑے، برتن وغیرہ۔ لیکن جذام کے پھیلاؤ کی کوئی حتمی وجہ ابھی تک دریافت نہیں کی جاسکی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مریض کی ناک سے خارج ہونے والی ریزش میں جذام کے جراثیم بڑی تعداد میں ہوتے ہیں جو اس کے پھیلاؤ کے ذمہ دار ہیں۔
عام حالات میں 95 فیصد لوگ قدرتی قوتِ مدافعت کے مالک ہوتے ہیں اور ان میں جذام کے پھیلاؤ کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

علامات اور تشخیص
ایک تندرست شخص کے جسم میں جذام کے جراثیم داخل ہوکر پرورش پانے کا عرصہ (Incubation Period) 3 سے 5 سال ہے۔ اس دوران جذام کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اس لئے مرض کی تشخیص میں عام طور پر دیر ہوجاتی ہے۔ علامات ظاہر ہونے کے وقت یہ جراثیم اعصاب پر اثر انداز ہوچکے ہوتے ہیں۔ ان میں ٹیڑھا پن (Diability) اور جھڑنے (Loss) کا عمل شروع ہوچکا ہوتا ہے۔

جذام کی علامات
ناک کا بہنا، تالو کا خشک ہونا، آنکھوں کے مختلف مسائل، جلد پر داغ، عضلاتی کمزوری، جلد کا سرخ ہوجانا، چہرے، کان اور ہاتھوں کی جلد پر سوجن، ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں احساس کا ختم ہوجانا، محیطی اعصاب میں سوجن، ناک کی کری ہڈی (Cartilage) کے نقصان کی وجہ سے ناک کا چپٹا ہوجانا، آواز میں تبدیلی اور جنسی اعضاء کا انفکشن۔ انہی علامات سے جذام کی تشخیص ہوجاتی ہے۔

جذام کی اقسام
گہرے مطالعے اور تحقیق کے نتیجے میں جذام کی کئی قسمیں سامنے آئی ہیں۔ان میں چند یہ ہیں:
* Early and Indeterminate Leprosy
* Tuberculoid Leprosy
* Borderline Tuberculoid Leprosy
* Borderline Leprosy
* Borderline Lepromatus Leprosy
* Lepromatous Leprosy
* Histoid Leprosy
* Diffuse Leprosy of Lucio and Latapi
ان تمام اقسام کی علامات ملتی جلتی ہیں۔
WHO نے جذام کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے:
* Paucibacillary Leprosy
* Multibacillary Leprosy
اس تقسیم کی بنیاد مریض کے جسم میں جراثیم کی تعداد ہے۔ پہلی قسم میں "Pauci-" کا مطلب ہے زیادہ تعداد۔

علاج
دو یا دوسے زیادہ دوائیوں کی ملی جلی خوراک کو MDT یعنی Multidrug Treatment Therapy کہتے ہیں۔ جب کسی مرض کے جراثیم الگ الگ دی جانے والی دوائیوں کے لئے قوتِ مدافعت (Resistance) پیدا کرلیتے ہیں تو اس صورت میں MDT کو آزمایا جاتا ہے۔ اکثر معاملات میں MDT کافی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ جذام کے علاج کے لئے استعمال کی جانے والی دوائیوں کو Leprostatic Agents کہتے ہیں۔ Paucibacillary Leprosy کے علاج کے لئے روزانہ Dapsone اور ماہانہ Rifampicin کی ایک خوراک چھ ماہ تک دی جاتی ہے۔ Multibacillary Leprosy کے علاج کے لئے روزانہ Dapsone اور Clofazimine کے ساتھ ماہانہ Rifampicin کی خوراک بارہ ماہ تک دی جاتی ہے۔
MDT بہت زیادہ پر اثر طریقہ علاج ثابت ہوا ہے۔ ایک ماہ کے علاج کے بعد مریض کا مرض متعدی نہیں رہتا۔ MDT مکمل ہونے کے بعد مرض دوبارہ واپس (Relapse) نہیں ہوتا۔ MDT کے لئے ابھی تک قوتِ مدافعت کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔
1995اور 1999 کے دوران WHO نے Nippon Foundation کے تعاون سے جذام سے متاثر تمام ممالک کو ان کی وزارتِ صحت کے توسط سے مفت MDT مہیا کیا تھا۔ اس مفت رسد کا سلسلہ آگے بڑھا دیا گیا ہے اور اب 2015 تک یہ رسد جاری رہے گی۔ مختلف ممالک کی حکومتیں اس رسد کا کچھ حصّہ NGOs کو بھی مہیا کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے طور پر جذام کے خلاف مہم میں حکومتوں کا ہاتھ بٹائیں۔

تازہ صورتِ حال
عالمی سطح پر 2012 میں جذام کے 1,80,000 نئے معاملے سامنے آئے جب کہ 2011 میں 2,20,000 لوگ اس مرض میں مبتلا ہوئے تھے۔ 1960 سے 2010 کے دوران جذام کے پھیلاؤ میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔1995 میں جذام کی وجہ سے معذور ہونے والے مریضوں کی تعداد 2 سے 3 ملین تھی۔ دنیا میں سب سے زیادہ جذام کے مریض ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ برازیل دوسرے نمبر پر ہے اور میانمار تیسرے نمبر پر۔ 2000 میں WHO نے 91 ممالک کی فہرست جاری کی تھی جہاں جذام کی وبا عام ہے۔ اس وقت ہندوستان، میانمار اور نیپال میں دنیا کے 70 فیصد مریض موجود تھے۔ ایک دوسرے سروے کے مطابق اس وقت ہندوستان میں دنیا کے 50 فیصد مریض موجود ہیں۔
حالانکہ عالمی سطح پر جذام کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن برازیل، جنوبی ایشیاء (ہندوستان اور نیپال) اور افریقہ کے کچھ حصوں (تنزانیہ، مڈغاسکر، موزا مبیق) وغیرہ میں اس مرض نے اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ رکھے ہیں۔

احتیاطی تدابیر
جذام کے مریضوں کا MDT شروع ہوجائے تو پھر اس کے افرادِ خانہ اور گھر سے باہر اس کے رابطے میں آنے والے لوگ محفوظ ہوجاتے ہیں۔ تاہم مریض کے رابطے میں آنے والے افراد میں قوتِ مدافعت (Immunity) کی کمی، مریض کا اپنے مرض کو چھپانا اور نتیجتاً مرض کو بڑھالینا وغیرہ ایسے بہت سے عوامل ہیں جو جذام کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ لہذا WHO نے مشورہ دیا ہے کہ جذام کے مریض کے افراد خانہ کی وقفے وقفے سے جانچ کرواتے رہنا چاہئے اور جیسے ہی کسی شخص میں جذام کا شائبہ پایا جائے، فوراً اس کا علاج شروع کردینا چاہئے۔
BCGکا ٹیکہ تپ دق (ٹی بی) کے علاوہ جذام سے بھی بہت حد تک محفوظ رکھتا ہے۔ BCG کی دو خوراکیں عوام کو جذام سے 60 فیصدی تک محفوظ کرتی ہیں۔ جذام کے خلاف زیادہ مؤثر ٹیکے کی تلاش جاری ہے۔

ہندوستان میں جذام کے مریضوں کا المیہ
ہندوستان میں جذام کے مرض کو کلنک کا ٹیکہ (Stigma) سمجھا جاتا ہے۔ مریض کو جلاوطن یا برادری سے باہر کردیا جاتا ہے۔ مریض کی معاشی حالت خستہ سے خستہ تر ہوتی جاتی ہے۔ کوئی اسے ملازم رکھنا پسند نہیں کرتا۔ ہر شخص اسے دھتکارتا اور اس سے دوری بنائے رکھتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں جذام کی شکار عورتوں کی مشکلات دو چند ہوتی ہیں۔ اس مرض کی شکار مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلاسکتیں،ان کے بچوں کو ان سے الگ کردیا جاتا ہے۔
ڈاکٹرس، NGOs اور دوسرے رضاکار ادارے عوام کو اس مرض سے متعلق معلومات مہیا کرنے میں جٹے ہوئے ہیں۔ علاج کے ساتھ ساتھ عوام بیداری کی مہم بھی بڑے پیمانے پر چلائی جائے تو ملک میں جذام کے مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک میں کمی آسکتی ہے۔

عالمی یومِ جذام
عالمی یومِ جذام (World Leprosy Day) 30جنوری یا اس سے قریبی اتوار کے دن منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد عوام میں جذام سے متعلق واقفیت پیدا کرنا ہے۔ 30 جنوری کو ہندوستان کے رہنما مہاتما گاندھی کو قتل کردیا گیا تھا۔ مہاتما گاندھی نے جذام کی مصیبت کو سمجھا اور جذام کے مریضوں کی بہت خدمت کی۔ ان کی خدمات کو یادگار بنانے کے لئے ان کے یومِ وفات 30 جنوری کو عالمی یومِ جذام کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جذام کے تعلق سے دو غلط فہمیاں عام ہیں۔ ایک یہ کہ جذام اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک سزا ہے جو مریض کو اس کے گناہوں کی پاداش میں دی جارہی ہے۔ دوسری یہ کہ یہ مرض موروثی ہے۔ عالمی یومِ جذام کے مقاصد میں ان غلط فہمیوں کو دور کرنا شامل ہے۔ گذشتہ 20 برسوں میں جذام کے پھیلاؤ میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ دنیا جذام سے مکمل چھٹکارا پانے کے قریب ہے، لیکن جذام کی حیاتیات (Biology) سے جڑے بہت سے ایسے سوال سائنسدانوں کے سامنے ہیں، جن کا جواب ابھی نہیں ملا ہے۔ اس موقع پر ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی سمت میں کی جانے والی کوششوں کا جائزہ بھی لیا جاتاہے۔ کیا مستقبل میں ہم جذام پر پوری طرح قابو پالیں گے؟ اس کا حتمی جواب فی الحال سائنسدانوں کی دسترس سے دور ہے۔ عالمی یومِ جذام کا ایک موضوع یہ بھی ہے۔
جذام ایک ایسا مرض ہے کہ اس سے لاعلمی، بے توجہی اور بے احتیاطی دنیا میں تو مصیبت ہے ہی۔۔۔لیکن ۔۔۔۔ کیا یہ مرض آخرت بھی بگاڑ سکتا ہے؟
اس کا جواب اثبات میں ہے!!!
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص قرآن پڑھ کر بھُلا دے تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے یہاں اس حالت میں آئے گا کہ اس کے اعضاء جذام کے مرض کی وجہ سے جھڑے ہوئے ہوں گے۔‘‘
(ابو داؤد: 1474 )

نوٹ
  • رسالے میں شائع شدہ تحریروں کو بغیر حوالہ نقل کرنا ممنوع ہے۔
  • قانونی چارہ جوئی صرف دہلی کی عدالتوں میں کی جائے گی۔
  • رسالے میں شائع شدہ مضامین میں حقائق واعداد کی صحت کی بنیادی ذمہ داری مصنف کی ہے۔
  • رسالے میں شائع ہونے والے مواد سے مدیر،مجلس ادارت یا ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
You are visitor no.   20478
اس ماہ
Designed and developed by Dr Aqeel Ahmad (9810832202) and Mohd Mukarram (7503317010)