پہلے ہندستانی جینوم کا مطالعہ
واپس چلیں

ڈاکٹرشمس الاسلام فاروقی
نومبر 2010


ابھی حال ہی میں جب ہندستانی ماہرین جینیات نے پہلی بار ایک ہندستانی جینوم * کا تفصیلی مطالعہ کیا اور اس میں موجود تمام جینس (Genes) اور ان کے نیوکلیوٹائیڈس (Nucletides) کی صحیح صحیح ترتیب کا تعین مکمل کیا تو اس کے ساتھ ہی ہندستان بھی دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیاجو 1990 سے انسانی جینوم کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے لئے سرگرم ہیں۔ ابھی تک جو ممالک کسی انسانی جینوم کے تمام جینی مادّے کی صحیح ترتیب کا تعین کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں ان میں صرف امریکہ، برطانیہ، چین، کینڈا اور کوریا ہی شامل ہیں۔
انسانی جینوم کے پورے جینی مادے کی ترتیب معلوم کرنے کا یہ معرکتہ آلا راکام سی ایس آئی آر کے دہلی میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف جینومکس اینڈ انیٹگریٹو بائیولوجی (آئی جی آئی بی) کے سائنسدانوں نے انجام دیا ہے جس کا وسیلہ جھاڑکھنڈ کا ایک صحت مند مرد تھا۔ اس مرد کا نام تو صیغۂ راز میں ہے تاہم اس کی عمر لگ بھگ پچاس سال، قد 163سینٹی میٹر اور وزن 52کلو گرام تھا۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر راجیش ایس گوکھلے جلد ہی مزید دس ہندستانیوں کے مکمل جینوم کے جینی مادے کی ترتیب انجام دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پہلے ہندستانی جینوم کے جینی مادّے کی ترتیب کا تعین (ڈی این اے مالیکیول میں موجود تمام نائٹروجنی بیسسز یعنی نیوکلیوٹائیڈس کا ترتیبی نظم) نہ صرف ایک قومی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی ہمارا ملک ’انفرادی جینومکس، کے میدان میں بھی عمل پیرا ہوگیا ہے۔جس کے ذریعے اب مختلف موروثی بیماریوں کی تشخیص اور ان کا علاج ممکن ہوسکے گا۔ ڈاکٹر گوکھلے کا کہنا ہے کہ اس سمت میں یہ صرف ابتداء ہوئی ہے جبکہ لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے میں ابھی مزید دس برس کا عرصہ درکار ہوگا ۔
جینوم پروجیکٹ پر کام کی ابتداء پروفیسر سمیر۔ کے ۔برہمچاری کے ہاتھوں ہوئی تھی جو اُس وقت آئی جی آئی بی سے وابسطہ تھے اور اب سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر گوکھلے تھے جنہیں اپنے دو ساتھیوں ڈاکٹر سری دھر سِوا سِبّو اور ڈاکٹر ونودسکاریا کے علاوہ چھ طالبِ علموں کی مدد بھی حاصل تھی۔
اس ٹیم نے کثیر مقدار میں حاصل ہونے والے ڈاٹا کو استعمال کرنے کے لئے 51 زبردست قوت والے سُپر کمپیوٹرس تشکیل دیے ہیں جن میں ڈی این اے کے کروڑوں چھوٹے چھوٹے 76 بیس (Base) جوڑوں پر مشتمل ٹکڑوں کی ترتیب کا تعین کرنا ممکن ہے۔ ان آلات کی مدد سے ترتیب شدہ بیسسز کے جوڑوں میں مضمر معلومات کو نہ صرف ذخیرہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ضرورت کے وقت اسے دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس طرح تمام جوڑوں کی متعلقہ معلومات کو یکجا کرکے پورے انسانی جینوم کی پہیلی کا حل ممکن ہے۔ آئی جی آئی بی کے یہ کمپیوٹرس اس قدر قوت والے ہیں کہ ن کی مدد سے چار ٹریلئن انفارمیشنز فی سیکنڈ کی رفتار سے پروسس کرنا ممکن ہے۔
ہندستانی جینوم کے مطالعے کے بعد وہ بے شمار فرق سامنے آسکے ہیں جو جینوم کے مختلف حصوں میں صرف کسی ایک نیوکلیوٹائیڈ کے تبدیل ہوجانے یا پھر اس کے اضافے یا غیر موجودگی کے سبب پیدا ہوجاتے ہیں۔ جینوم کے ان فرقوں یا تبدیلیوں کا اپنا ایک مخصوص طرز سامنے آیا ہے جس کا موازنہ اگر مغربی جینوم سے کیا جائے تو ایسا اشارہ ملتا ہے کہ شاید یہ فرق آنتوں کے کینسر کا ذمہ دار ہو۔ تاہم ابھی قطعیت سے یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ جو فرق مغربی جینوم میں کینسر کا باعث ہے اسے ہندستانی جینوم میں بھی کینسر ہی پیدا کرنا چاہئے۔ ہوسکتا ہے وہ کسی دوسری خصوصیت کے لئے ذمہ دار ہو۔ ڈاکٹر گوکھلے کا کہنا ہے کہ ہندستانی جینوم میں جینیاتی مادّے کی ترتیب کا تعین محض پہلا قدم ہے جبکہ اس میں موجود مختلف جینس کا تجزیہ کرنے میں غالباً مزید ایک سال کی مدّت درکار ہوگی۔
بحر کیف جینیاتی مادّے کی ترتیب میں فرق بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ نہ صرف انسانی ارتقاء کا ضامن ہے، افراد کے مابین شناخت کا ذریعہ ہے بلکہ بعض موروثی مہلک بیماریوں کا پیش خیمہ بھی ہے کیونکہ واحد نیوکلیوٹائیڈ تبدیلیوں کے نتیجے میں جسمانی افعال بھی متاثر ہوتے ہیں۔
مکمل انسانی جینوم کے مطالعے کی اہمیت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ابھی تک انسانوں میں جینیاتی بیماریوں کی تشخیص کرنے کے لئے تقریباً 1000 مختلف چانچیں کرنا پڑتی ہیں اور ان کے لئے تقریباً 350کیمیائی اشیاء درکار ہوتی ہیں۔
عالمی پیمانے پر ابھی تک صرف 14 افراد کے جینومس کا مطالعہ کیا گیا ہے جن میں گریگ وینٹر (Graig Venter) اور جیمس واٹسن (James Watson) کے جینوم خاص ہیں۔ چند برس پہلے 2007 میں چین کے بیچنگ جیونکس انسٹی ٹیوٹ نے یان ہوآنگ پروجیکٹ کے تحت مکمل انسانی جینوم کے جینیاتی مادے کی ترتیب مکمل کرلی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگلے چند برسوں میں وہ مزید 100انسانی جینومس کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جینوم کے جینیاتی مادے کی ترتیب کے تعین کا کام 1995 میں شروع ہوگیا تھا اور اب تک 1150جانوروں اور پودوں کے جینومس کی ترتیب مکمل ہوچکی ہے جس کی تفصیلات جینوم نیوزنیٹ ورک (www.genomesonline.org/gold.cgi) سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس ضمن میں بہت سے پروجیکٹس اب بھی جاری ہیں۔
پہلے انسانی جینوم کے مطالعے کا آغاز 1985میں ہوا تھا۔ اس کے لئے بہت اعلیٰ معیار کی شماریاتی اور ٹیکنولوجیکل صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں کیونکہ انسانی جینوم اندازاً 3.1بلئن نائیٹروجنی بیسسز جوڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کی نہ صرف ترتیب کا تعین کرنا ہوتا ہے بلکہ جدید ترین ٹیکنولوجی کی مدد سے انہیں سمجھ کراس معلومات کا ذخیرہ بھی کرنا پڑتا ہے تاکہ بوقت ضرورت اس معلومات کو دوبارہ حاصل کیا جاسکے۔ بین الاقوامی انسانی جینوم پروجیکٹ کا آغاز 1990 میں ہوا تھا جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان اور چین نے اشتراک کیا تھا۔ اس پروجیکٹ پر کام کرتے وقت سائنسدانوں کے پیش نظر مندرجہ ذیل مقاصد تھے:
1۔ انسانی ڈی این اے میں موجود تمام 20,000 سے 25,000جینس کو شناخت کرنا۔
2۔ اُن تین بلئن کیمیائی بیس جوڑوں کی ترتیب کا تعین کرنا جن سے انسانی ڈی این اے تشکیل پاتا ہے۔
3۔ حاصل شدہ انفار میشنس کو ڈاٹا بیسسز میں ذخیرہ کرنا۔
4۔ متعلقہ ٹیکنولوجیز کو پرائیویٹ سیکٹر کو منتقل کرنا۔
5۔ پروجیکٹ پر کام کرتے وقت جو بھی اخلاقی،قانونی یا سماجی پیچیدگیاں پیدا ہوں انہیں حل کرنا۔
6 2 جون 2000میں پروجیکٹ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ 90% جینوم کے جینیاتی مادّے کی ترتیب کا تعین کرلیا گیا ہے جس میں غلطی کا امکان ہر 1000 بیس جوڑوں میں ایک کا تھا تاہم اس طرح بھی جینوم میں 1,50,000ایسے خلا موجود تھے جن کے بارے میں لا علمی تھی یعنی محض 28% جینوم ہی پوری طرح تکمیل تک پہنچ سکا تھا۔ اس کے بعد اپریل 2003 میں فائینل نتیجہ آیا جس کی رو سے 99%جینوم پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا اور محض 400خلا ایسے رہ گئے جن کے بارے میں لاعلمی تھی۔ غلطیاں اب بھی رہ گئی تھیں تاہم ان کی تعداد اب ہر 10,000بیس جوڑوں پر ایک سے بھی کم تھی۔ اس سلسلے میں اگست 2009میں جو رپورٹ شائع ہوئی اس سے پتا چلا کہ اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے ایک انجینئر اسٹیفین آرکوئیک نے ڈی این اے کی ڈی کوڈنگ کرنے کے لئے ایک نئی ٹیکنولوجی دریافت کرلی ہے جسے ہیلی اسکوپ سنگل مولیکولر سیکونسر (Haliscope Single Molecules Sequencer) کا نام دیا ہے۔ اس کی مدد سے وہ خود اپنے جینوم کو محض 50,000امریکی ڈالر کے اخراجات سے ہی ڈی کوڈ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ تاہم یہ امر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ جب ہندوستانی جینوم کا مطالعہ کیا گیا تو اس پر محض 15سے 20 لاکھ روپے یعنی 30,000امریکی ڈالر ہی خرچ ہوئے۔ اس خرچ کو مزید کم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ڈاکٹر گوکھلے کا کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب بینک اس کام کے لئے قرضہ دیں گے اور ایک عام شخص بھی اپنے جینوم کی جانچ کراسکے گا تاکہ موروثی مہلک امراض کی تشخیص کرکے ان پر قابو پایا جاسکے۔
اخراجات کے ساتھ وقت میں بھی کفایت ہوسکی ہے۔ جہاں پہلی انسانی جینوم کی ڈی کوڈنگ میں دس برس کا عرصہ لگ گیا تھا وہیں سی ایس آئی آر کے ماہرین نے پہلی ہندستانی جینوم کی ڈی کوڈنگ محض 45دن میں مکمل کرلی جبکہ اب ڈاکٹر کوئیک کی مشین کے ذریعے یہ کام صرف چار ہفتوں کے دوران محض تین افراد کی کوششوں سے ممکن ہے۔
سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر برہم چاری کا خیال ہے کہ جن ممالک میں جینیاتی وسائل کی فراوانی ہے ان کے لئے جینوم مطالعات زیادہ مفید ثابت ہوں گے۔ اپنے بیان کے جواز میں ان کا کہنا ہے کہ ہندستان میں نسلی گروہوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہاں دنیا بھر کے انسانوں کا چھٹا حصہ آباد ہے۔ خاندان عموماً بڑے ہیں جن میں لوگ ہجرت بہت کم کرتے ہیں۔ شا دیاں بھی عام طور پر رشتہ داروں ہی کے مابین طے ہوجاتی ہیں۔ لوگوں کی زندگیاں مخصوص ماحول میں گزرتی ہیں اور نتیجتاً افراد کے جینوم میں امراض کی حامل تبدیلیاں زیادہ رونما ہوتی ہیں۔ اس لئے ایسے خطے میں جینوم کے مطالعات میں موروثی امراض کی نشان دہی کے امکانات زیادہ متوقع ہیں۔
پروفیسر برہم چاری نے حسب ذیل جینومک مطالعات تجویز کئے ہیں۔
1۔ جینی مادّے میں فرقوں یا تبدیلیوں کی عکاسی کرنے کے لئے 25 واضح مختلف آبادیوں سے 20 جینومس کا مطالعہ۔
2۔ ان 25 آبادیوں میں سے 10 جڑواں جوڑوں ( 5 نر اور 5 مادہ پر مشتمل) کے جینومس کا مطالعہ۔
3۔ 1000 ایسے جنین کا مطالعہ جن کا قدرتی طور پر اسقاط ہوا ہو۔
4۔ 25 نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 500صحت مند افراد جنہوں نے کسی دوا کا استعمال نہ کیا ہو۔ ان افراد کے جینومس کا مطالعہ موازنے کے لئے کنٹرول کا کام دے گا۔
تمام ماہرین جینیات اس بات پر متفق ہیں کہ تمام انسانوں کی تخلیق میں ڈی این اے کا ایک ہی چربہ استعمال ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرقوں کے باوجود انسانوں کے جینومس میں نیوکلیوٹائیڈس کی ترتیب میں غیر معمولی مماثلت پائی جاتی ہے۔ فرقوں کی موجودگی انہیں ایک دوسرے سے الگ شناخت کرنے میں مدد دیتی ہے۔ عام طور پر دو افراد کی جینومک ترتیب کے مابین اوسطاً ہر بارہ سو بیسسز پر ایک کا فرق ہوجاتا ہے۔ کوئی بھی ایسے افراد جن کی آپس میں کوئی رشتہ داری نہ ہو، ان کے جینومس میں تفریق یا انحرافات کی تعداد لگ بھگ تین ملئن ہوتی ہے۔ اس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ نسلِ انسانی تنوع میں یکسانیت کی بہترین مثال ہے۔
نیوکلوٹائیڈس کی ترتیب میں صرف ایک نیوکلیوٹائیڈ کا فرق ہوجانا سنگل نیوکلیوٹائیڈ پولی مورفزم (Single Nucleotide Polymorphism "SNP") سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ فرق ڈی این اے مالیکیول میں کسی بھی مقام پر پیدا ہوسکتے ہیں۔ عموماً ان فرقوں سے افراد کی بقا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ عموماً تو یہ فر ق دو افراد کے مابین غیر مماثلت کا سبب ہوتے ہیں تاہم بعض فرق جینی امراض پیدا کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ گریگ وینٹر کے جینوم میں سنگل نیوکلیوٹائیڈ فرقوں کی تعداد 3ملأن اور نان سنگل نیوکلیوٹائیڈ فرقوں کی تعداد 1ملأن بتائی گئی ہے۔
اب عام طور پر یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ لوگوں کا ماحول، ان کی غذا اور طرز زندگی ان فرقوں کو پیدا کرنے کا اصل موجب ہیں۔ ان حقائق کو جان لینے کے بعد ہمیں بحیثیت مسلمان اس امر پر ضرور غور وفکر کرنا چاہئے کہ ہمارے شقیق خالق نے ہمیں اس کرۂ ارض پر زندگی گزارنے کے لئے پاکیزہ اور صاف ستھرا ماحول، پاک اور حلال غذا اور سادہ طرز زندگی کی تلقین آخر کیوں کی ہے۔ سردست انسانی جینوم کے مطالعے کی تمام تر کوششوں کا مقصد ان تمام فرقوں کی معلومات حاصل کرنا ہے جومہلک بیماریوں سے منسلک ہیں۔ ساتھ ہی جینوم کی جانچ پر آنے والے اخراجات کو بھی کم سے کم کردینے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ یہ جانچ ہر عام انسان کی دست رس میں آسکے۔

نوٹ
  • رسالے میں شائع شدہ تحریروں کو بغیر حوالہ نقل کرنا ممنوع ہے۔
  • قانونی چارہ جوئی صرف دہلی کی عدالتوں میں کی جائے گی۔
  • رسالے میں شائع شدہ مضامین میں حقائق واعداد کی صحت کی بنیادی ذمہ داری مصنف کی ہے۔
  • رسالے میں شائع ہونے والے مواد سے مدیر،مجلس ادارت یا ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
You are visitor no.   20485
اس ماہ
Designed and developed by Dr Aqeel Ahmad (9810832202) and Mohd Mukarram (7503317010)