لڑاکا طیارے
واپس چلیں

علیم احمد
نومبر 2012
فضائی کی سب سے نچلی تہہ تک محدود رہی ہیں۔
مطلب ان لڑاکا اور بمبار طیاروں، اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی رسائی اوسطاً ساڑھے پانچ میل (9کلومیٹر) یا سطح سمندر سے تقریباً 30,000فٹ کی بلندی تک رہی ہے۔ اگلے بیس سال تک یہ اوسط کم و بیش یہی رہے گا۔ اس کے بعد عسکری فضائی کاروائیوں میں ایک انقلاب متوقع ہے جو فضائی جنگ کی بلندی میں غیر معمولی اضافہ کرے گا اور اس کی حدود وسیع کرتے ہوئے بالائی اسٹریٹو سفیئر اور زیریں میسو اسفیئر تک پہنچادے گا۔ یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2025ء کے بعد فضائی جنگیں 55 کلو میٹر کی بلندی تک لڑی جاسکیں گی۔۔۔ گویا جنگی کارروائیاں اوزون تہہ جتنی اونچائی تک جاپہنچیں گی۔ ایسی انتہائی بلند پرواز مشینوں کے لئے ’’طیارے‘‘ کا لفظ خاصا بے محل دکھائی دیتا ہے لیکن انہیں ہم خلائی جہاز بھی نہیں کہہ سکتے۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ایسے بلند پرواز آلاتِ جنگ، طیاروں اور خلائی جہازوں کے درمیان کی چیز ہوں گے۔سروس سیلنگ (Service Ceiling)کہنے کو دو لفظی اصطلاح ہے۔ لیکن عسکری ہوا بازی (ملٹری ایوی ایشن) میں یہ فضائی ہتھیاروں کی استعدادِ کار کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سروس سیلنگ سے مراد وہ بلندی ہے کہ جس پر رہتے ہوئے کوئی طیارہ کارروائی کے قابل ہوتا ہے۔
یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ مستقبل کی جنگ میں بری، بحری اور فضائی ہتھیاروں کی اہمیت ختم ہوجائے گی یا راکٹ، میزائل اور بم بالکل بے حیثیت ہوکر رہ جائیں گے۔ اس کے بجائے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ آج سے پچیس سال بعد کی جنگوں میں بلند پرواز آلاتِ جنگ (خصوصاً بلند پرواز طیارے) ایک فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ فضائی طاقت کی اصلاح ایک نئے اور اچھوتے مفہوم سے روشناس ہوگی۔
جب ہم 60 کلو میٹر، یا اس سے بھی زیادہ بلندی پر اڑنے والے طیاروں کی بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اونچائی، زمین پر موجود مروجہ فضائی دفاعی نظاموں (گراؤنڈ بیسڈ ایئر ڈیفنس یا GBAD) کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ کوئی ملک جیسے ہی یہ صلاحیت حاصل کرلے گا ، ویسے ہی اس کی فضائی برتری میں غیر معمولی اضافہ ہوجائے گا۔
اسے زمینی فضائی دفاعی نظاموں (GBAD) کی نظروں سے چھپنے ، طیارہ شکن بندوقوں کی گولیوں اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے بچ کر بھاگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہ سکون سے اپنے بم /میزائل گرائے گا، موت برسائے گا، مطلوبہ یا غیر مطلوبہ اہداف کو تباہ کرے گااور ’’اوپرہی اوپر سے‘‘ واپس لوٹ جائے گا۔ یہ ایک ایسا خطرہ ہوگا جو آنکھوں کے سامنے لیکن پہنچ سے دور ہوگا۔
ان بلند پرواز ہتھیاروں کا بے بس شکار ملک کیا کرے گا؟ وہ پہلی فرصت میں شکست قبول کرلے گا یا اپنے روایتی اور دور مار ’’بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے‘‘ ہتھیاروں کے ذریعہ حملہ آور ملک کے شہروں کو نشانے پر رکھ لے گا۔۔۔ اور ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کی تفسیر بن جائے گا؟ بہتر ہے کہ اس سوال کا جواب اہلِ سیاست پر چھوڑ دیا جائے اور بلند پرواز طیاروں/ ہتھیاروں کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے جاری کوشش کا جائزہ پیش کیا جائے۔

پہلی مثال: F/A-22
لاک ہیڈمارٹن کے جدید ترین لڑاکا طیارے ایف / اے 22 ریپٹر کا نام آج کل بہت سننے میں آرہا ہے۔ یہ انتہائی بلند پرواز طیاروں کی جانب پہلا قدم بھی تصور کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی سروس سیلنگ 9 میل (15کلو میٹر) سے بھی کچھ زیادہ ہوگی۔ متوقع طور پر آئندہ چند سالوں کے دوران امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال آنے والے اس طیارے میں بلند پروازی، اسٹیلتھ ٹکنالوجی، میک 1.7 جیسی تیز رفتاری (یعنی آواز سے 1.7 گنا زیادہ رفتار پر سفر کرنے کی صلاحیت ) اور ہدف کو شناخت / تباہ کرنے کے جدید ترین ( اور مربوط) آلات کی بدولت وہ خصوصیات جمع ہوں گی جو اس سے پہلے کسی لڑاکا / بمبار طیارے کے حصے میں نہیں آئیں۔
دستیاب اعداد وشمار کے مطابق، امریکی افواج نے لاک ہیڈ مارٹن کو 648 ایف/ اے 22 ریپٹر طیاروں کا آرڈر پہلے ہی سے دیا ہوا ہے اور ایسے ہر طیارے کی قیمت (صرف امریکی افواج کے لئے) تقریباً 6کروڑ (60ملین) ڈالر ہوگی۔ یعنی لاک ہیڈمارٹن کو صرف ریپٹر کے اس ایک آرڈر کی تکمیل پر 39 ارب ڈالر کی آمدنی ہوگی۔ ریپٹر کا واحد غیر امریکی خریدار (اب تک کی اطلاعات کے مطابق) اسرائیل ہوگا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سودا طے ہوجانے کی صورت میں اسرائیل ان طیاروں کی زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کرے گا جو امریکی افواج سے لی جائے گی، ورنہ اسے ریپٹر کی پوری کھیپ ’’تحفتاً‘‘ پیش کردی جائے گی۔ تاہم اس وقت اسرائیلی حکام نے ان طیاروں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کرلی ہے لیکن ابھی حتمی فیصلے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہی ہوگا۔
آزمودہ فنیات (Tested Technologies) کو مواصلات/ اطلاعات کا بھر پور اور تیز رفتار استعمال کرنے والے (وائرلیس) آلات میں شامل کرکے آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر انسان بردار (اور روبوٹک) ہتھیار وضع کئے جائیں گے۔ یہ نہایت ذہین ہتھیاروں، ہائپرسونک میزائلوں اور نینو میٹر پیمانے کے آلات حساسیت (نینو سینسرز) کی دنیا ہوگی جس کا ہر ہتھیار ہلکے کمپیوٹر کی وضع کردہ تیز رفتار حکمتِ عملی کا تابع ہوگا۔
2040ء میں فضائی جنگ کی دنیا اتنی مختلف ہوگی کہ اس کے بہت سے بنیادی اجزاء آج تک غیر موجود یا انتہائی خفیہ ہیں۔ لہذا اس بارے میں قابلِ بھروسہ پیش گوئیاں بھی ممکن نہیں۔ قریب قریب ہر ممکنہ منظر نامے میں بے یقینی کا پہلو نمایاں ہے۔ البتہ ایک چیز بہت واضح ہے کہ فضا ئی جنگی کارروائیوں کا دائرہ (آج کے مقابلے میں) بہت وسیع ہوچکا ہوگا اور لڑاکا /بمبار طیارے بلندی کی نئی انتہاؤں کو چھورہے ہوں گے۔
عسکری منصوبہ ساز ان ممکنات کا پہلے ہی سے اندازہ کرچکے ہیں لہذا وہ ایسے طریقوں کی کھوج میں ہیں جو نئے جنگی ماحول (یعنی انتہائی بلندی کی کیفیات) میں مؤثر ترین انداز سے استعمال کئے جائیں۔ جدید سے جدید ترفنیات کی تخلیق پر ہونے والی تحقیق کا مقصد بھی یہی ہے۔
ماضی کا ایک سبق
یہ 1950 ء کے زمانے کی بات ہے ۔ سرد جنگ تیزی سے اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ سوویت یونین اور نیٹو ممالک کی افواج ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف تھیں۔ ابتدائی حکمت عملی کے طور پر نیٹو ممالک نے ایسے لڑاکا/ بمبار/ حملہ آور طیارے بنائے جو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں (سام) کی پہنچ سے بھی زیادہ بلندی پر رہتے ہوئے پرواز کرسکیں۔ سوویت یونین نے جلدی ہی اس کا توڑایسے سام (میزائلوں) کی شکل میں کرلیا جو پہلے سے بھی زیادہ اونچائی پر اڑتے ہوئے طیارے کو اُڑاسکیں۔
نیٹو (NATO) ممالک کو جلد ہی یہ اندازہ ہوگیا کہ بلند پروازی میں وہ سوویت یونین پر اپنی سبقت برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔ سوویت بلاک کے لڑاکا طیارے بھی ایسے (فضا سے فضا میں مارکرنے والے) میزائلوں سے مسلح کئے جارہے تھے جو نیٹو کے زیرِ استعمال طیاروں کی سروس سیلنگ سے بھی زیادہ بلندی پر پہنچ سکتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ راڈار بھی بہتر ہوتے گئے اور میزائلوں کی زمینی بیٹریاں بھی طاقتور ہوتی چلی گئیں۔ اور یوں جلد ہی وہ (اس زمانے کے) بلند سے بلند پرواز کے اہل طیارے کو نشانہ بنانے کی اہل ہوگئیں۔ یہ صورتحال نیٹو ممالک کے لئے حد سے زیادہ پریشان کن تھی کیونکہ انہیں سوویت یونین کے لڑاکا طیاروں ہی سے نہیں بلکہ زمینی فضائی دفاعی نظام (GBAD)سے بھی شدید خطرہ لاحق ہوچکا تھا۔
ان حالات کے پیشِ نظر نیٹو ممالک کے عسکری منصوبہ سازوں نے دو چیزوں پر بھرپور توجہ دینے کا فیصلہ کیا: اوّل عسکری طیاروں (لڑاکا/ بمبار) کی رفتار میں اضافہ اور، دوم انہیں راڈار کی نظروں سے اوجھل ہوجانے کے قابل بنانا۔
زیادہ سے زیادہ رفتار کے حصول کی خواہش نے جیٹ انجنوں کی ٹیکنالوجی کو پختہ کرنے میں نمایاں کردار اداکیا اور صرف دو یا تین دہوں ہی میں یہ ممکن ہوگیا کہ تقریباً آواز کی رفتار (میک1) پر کئی گھنٹوں تک پرواز جاری رکھی جاسکے۔ رفتار اب بھی ایک اہم پہلو ہے لیکن اس کے بارے میں بحث پر ہم کچھ دیر بعد واپس آئیں گے۔
راڈار کی نظروں سے بچنے کی مثالی صورت یہ تھی کہ دشمن کے راڈار پر طیارہ نظر ہی نہ آسکے۔ لیکن عملاً یہ تقریباً ناممکن تھا لہذا ایسی ٹیکنالوجیز پر کام شروع کیا گیا جو طیاروں کو (راڈار کے لئے) ہر ممکنہ حد تک کم قابلِ مشاہدہ (Low-Observable) بنا دیں۔ لہذا اس اصول کی بنیاد پر بننے والے طیاروں کو آج بھی ایل او (LO) یعنی کم قابلِ مشاہدہ کہا جاتا ہے جبکہ عوام میں یہی چیز ’’اسٹیلتھ‘‘ (Stealth) کے نام سے مشہور ہے۔
آسان الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے تحت ایسے طیارے بنائے جاتے ہیں جو یا تو راڈار پر دکھائی نہ دیں، اور اگر دکھائی دیں تو راڈار اسکرین انہیں ان کی اصل جسامت کے مقابلے میں بہت ہی کم تر بناکر پیش کرے اور غنیم انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کردے۔
فضائی جنگ کہ جہاں حریف کے دفاع میں سرایت کرنے کے لئے صرف تیز رفتاری ہی کی اہمیت تھی، اب وہاں طیاروں کو کم قابلِ مشاہدہ بنانے والی فنیات (یعنی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی) نے بھی مساوی اہمیت حاصل کرلی۔ یوں 1970ء اور 1980 ء کے دہوں میں شروع کئے گئے تحقیقی منصوبوں کے نتائج بی ٹواے (B-2A)اور ایف 117 اے (F-117A)جیسے جدید بمبار اور حملہ آور، اسٹیلتھ طیاروں کی شکل میں برآمد ہوئے۔ ان منصوبوں کے دوران وضع کی گئی کچھ فنیات آج بھی خفیہ رکھی گئی ہیں۔ مگر ان طیاروں کو موجودہ دور کے حالات اور جدید فضائی دفاعی نظاموں کے طفیل درپیش خطرات کے اعتبار سے پوری طرح موزوں بھی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ موجودہ اسٹیلتھ طیارے اپنی بہترین حالت میں بھی ایک عبوری دور کا درجہ رکھتے ہیں جس کے دن گنے جاچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ اور آئندہ نسل کے لڑاکا طیاروں کے درمیان ایک خلاء موجود تھا اور مذکورہ طیاروں کو یہی خلاء پر کرنے کے لئے ایک جزوقتی حل کے طور پر کام میں لایا گیا ہے۔
اس طرح عسکری طیاروں کا موجودہ عالمی منظر نامہ کچھ یوں بنتا ہے کہ فضائی افواج کے زیرِ استعمال بیشتر لڑاکا / بمبار طیارے تبدیلی کے منتظر ہیں اور جلد یا دیران کی جگہ نئی نسل کے (یانئے) طیارے آجائیں گے۔ ان اُمیدواروں میں ڈسالٹ کا رافیل، ساب/ بی اے ای سسٹمز کاگریپن، یوروفائٹر ٹائیفون، لاک ہیڈ مارٹن کا ایف / اے 22 اور اسی ادارے کا ایف 35 جوائنٹ اسٹرائک فائٹر (F-35 JSF) نمایاں ہیں۔

نوٹ
  • رسالے میں شائع شدہ تحریروں کو بغیر حوالہ نقل کرنا ممنوع ہے۔
  • قانونی چارہ جوئی صرف دہلی کی عدالتوں میں کی جائے گی۔
  • رسالے میں شائع شدہ مضامین میں حقائق واعداد کی صحت کی بنیادی ذمہ داری مصنف کی ہے۔
  • رسالے میں شائع ہونے والے مواد سے مدیر،مجلس ادارت یا ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
You are visitor no.   20514
اس ماہ
Designed and developed by Dr Aqeel Ahmad (9810832202) and Mohd Mukarram (7503317010)