شمس الاسلام فاروقی
اگست 2020
مکمل شمارہ پڑھئے
کون ہے جو لفظ ٹِڈّی سے واقف نہیں۔ چھوٹے بچوں سے پوچھئے و ہ بھی ٹِڈّی کی پوری تفصیل آپ کو بتادیں گے۔ مکھی، مچھر، کاکروچ اور جھینگر جیسے کیڑوں کے بعد اگر کوئی دوسرا کیڑا زبان زد عام ہے تو وہ ٹِڈّی ہے۔ گھاس پات کے درمیان پائے جانے والے ہرے رنگ کے یہ کیڑے بے حد عام ہیں جو اپنی پچھلی زیادہ موٹی اور مضبوط ٹانگوں پر اکثر اونچی اونچی چھلانگیں لگاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ اپنے چار پَروں کی مدد سے اُڑانیں بھی بھر سکتے ہیں۔چار پروں میں سے دو قدرے موٹے دَل کے پتلے اور لمبوترے ہوتے ہیں جبکہ پچھلے چوڑے پنکھے نما، باریک اور شفاف۔ یہ آرام کی حالت میں اگلے پروں کے نیچے کسی جاپانی پنکھے کی مانند تہہ کیے ہوئے جسم سے چپکے ہوئے رہتے ہیں۔ چھلانگیں لگانے اور اڑانیں بھرنے کی خصوصیت کی وجہ سے یہ بچوں کے پسندیدہ کیڑے ہیں۔ بچے عموماً انکی ایک ٹانگ میں دھاگا باندھ کر ان کے چھلانگیں لگانے اور اڑانیں بھرنے کا تماشہ بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔

بظاہر یہ ٹِڈّے بے ضرر قسم کے کیڑے ہیں جو گزارا تو ضرور ہری چیزوں پر کرتے ہیں مگر انہیں اتنا نقصان نہیں پہنچاتے کہ ہمارے لئے مسائل کھڑے ہوجائیں۔ البتہ آج کل یہ ٹِڈّے خبروں کی سرخیاں بنے ہوئے ہیں۔ خبروں سے پتا چلتا ہے کہ ان ٹِڈّوں نے پہلے پاکستان میں تباہی مچائی اور لاکھوں کی فصلیں اور ترکاریاں برباد کردیں اور اب راجستھان اور گجرات کے راستے ہمارے ملک میں داخل ہوئے ہیں۔ اب یہ ٹِڈے ہریانہ، اتر پردیش اور مہاراشٹرا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بلاشبہ عام لوگوں کے لئے یہ بات ذہنی الجھن کا سبب ہے کہ بے ضرر کیڑوں نے یہ اچانک کیسا روپ اختیار کرلیاکہ ملکوں ملکوں لوگ ان کی تباہیوں سے خائف نظر آتے ہیں اور بڑے پیمانے پر انہیں قابو کرنے اور ان سے محفوظ رہنے کی تدابیر اختیار کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔
ان کیڑوں کے بارے میں ایک بات جو کہی جارہی ہے وہ لوگوں کی ذہنی الجھن کو مزید بڑھانے والی ہے۔ لوگ انہیں ٹڈّی کہہ کر پکار رہے ہیں۔ عام لوگ انہیں ٹڈّوں کا مؤنث تصوّر کرکے مزید حیران ہیں کہ یہ کیسے کیڑے ہیں جن کے نر تو بے ضرر لیکن مؤنث اتنے خطرناک ہیں کہ وہ جہاں جاتے ہیں بڑے پیمانے پر تباہی اور بربادی مچا دیتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ دونوں ہی ٹڈّے ہیں لیکن یہ ایک دوسرے کے نر اور مادہ ہر گز نہیں۔ اس کے خلاف یہ دونوں کیڑوں کی الگ الگ اقسام ہیں ایک کو ٹڈّا اور دوسرے کو ٹڈّی یا ٹڈّی دَل کہا جاتا ہے۔دونوں کا تعلق البتہ ایک مشترکہ گروہ سے ہے جسے انگریزی میں شارٹ ہارنڈ گراس ہاپرس کہتے ہیں۔ شارٹ ہارنڈ یعنی چھوٹے سینگ والے کا لفظ ان کے چھوٹے اینٹنی سر پر ایریل نما اعضاء جو اطراف کی خبریں دیتے ہیں کی طرف اشارہ ہے جو ہرن کے سینگوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ساختی اعتبار سے بھی ٹڈّے اور ٹڈّیاں ایک جیسے ہوتے ہیں جنہیں ایک دوسرے سے الگ شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ البتہ اپنی عادات کے لحاظ سے یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ٹڈّے وہ کیڑے ہیں جنہیں عام لوگ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ہی گھاس پات کے درمیان پھدکتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کے بر خلاف ٹڈّیاں وہ کیڑے ہیں جو صرف وقفوں وقفوں سے ظاہر ہوتے ہیں۔بچوں اور نوجوانوں نے اس کے بارے میں کتابوں میں پڑھا ہے جبکہ بزرگ انہیں اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں۔ صرف بڑی عمر کے لوگوں نے ہی ان کے دَل اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور ان کی لائی ہوئی بربادیوں کو جھیلا ہے۔

ان ٹڈّیوں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان کی زندگی دو واضح ادوار پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ ادوار انگریزی زبان میں فیز سولی ٹیریا اور فیز گیریگیریا ناموں سے جانے جاتے ہیں۔ فیز سولی ٹیریا کے دوران ٹڈّیاں عام ٹڈوں کی طرح الگ الگ زندگی گزارتی ہیں۔ دور دور انڈے دیتی ہیں اور کبھی بھی جھنڈ یا دَل نہیں بناتیں۔ وہ بے ضرر انداز سے اپنی زندگی گزارتی ہیں اور کبھی بھی انسانوں کے لئے پریشانیاں پیدا نہیں کرتیں۔ اس کے برعکس یہ ٹڈیاں فیز گری گیریا میں داخل ہوکر کسی ایک مقام پر اجتماعی طور پر انڈے دیتی ہیں جن سے نکلنے والے ہاپرس ابتداء ہی سے جتھوں میں رہتے ہیں اور بڑے ہوتے ہوتے اپنے اندر ایک مخصوص حِس پیدا کرلیتے ہیں جس کے تحت وہ سب ایک ساتھ مل کر بڑے بڑے دَلوں کی شکل میں اپنی پیدائش کے علاقوں سے سینکڑوں ہزاروں میل دور کے علاقوں کی طرف ہجرت کرتی ہیں۔راستے میں جہاں کہیں انہیں ہریالی نظر آتی ہے وہ ایک ساتھ حملہ آور ہوکر ہر ہری چیز کا صفایا کرڈالتی ہیں۔ بعض اوقات یہ حملے اتنے شدید ہوتے ہیں کہ بڑے بڑے علاقوں میں فصلیں، سبزیاں اور پھل مکمل طورپر تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ کھانے کی اس قدر قلت ہوجاتی ہے کہ وہاں قحط کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ہماری تاریخ ان کی تباہیوں سے بھری پڑی ہے۔
ان ٹڈیوں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ان کی زندگی کے دو فیزز یعنی سولی ٹیریا اور گریگیریا کے درمیانی وقفے بس یوں ہی علی الحصاب نہیں ہوتے بلکہ ان کے ایک دوسرے کے بعد آنے میں ایک مخصوص ترتیب پائی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں ٹڈّی دَلوں کے آنے کا رکارڈ انیسویں صدی سے شروع ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سے پندرہ بڑے ٹڈّی دلوں کے حملوں کا رکارڈ کچھ اس طرح نظر آتا ہے:1812،1823، 1834، 1843، 1863، 1869، 1878، 1889، 1896-97، 1901-1903، 1906-1907، 1912-1915، 1926-1931، 1940-1946، 1948-1962۔ ان رکارڈس کے مطالعے سے اندازا کیا جاسکتا ہے کہ دونوں فیزز کے درمیانی وقفے گومتعین نہیں تاہم وہ ایک سے بارہ سال تک ہوسکتے ہیں۔ 1962کے ٹڈی دَل کے بعد اب ان کا حملہ ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ٹڈیوں کے متحرک ہونے اور دَل بنانے کا وقفہ غیر معمولی لمبا ہے بلکہ اس عرصے کے دوران دَل تو بنتے رہے ہوں گے مگر ان کی افزائش اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ وہ عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بن سکیں یا ملکی پیمانے پر معاشی بربادی کا باعث بن سکیں۔
قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ٹڈیاں اپنا طرز زندگی دورانی انداز سے ایک فیز سے دوسرے فیز میں کیوں تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں انڈین اگریکلچرل رسرچ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کے ماہر حشریات ڈاکٹر ایس پردھان وہ واحد انٹومالوجسٹ ہیں جنہوں نے بائیوٹک تھیوری آف پییریوڈی سٹی آف لوکس سائیکل (Biotic Theory of Periodicity of Locust Cycle) پیش کرکے اس کی تشریح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نظریے کے مطابق یہ ٹڈیاں نیم ریگستانی علاقوں میں کثیر تعداد میں اپنی افزائش کرتی ہیں۔ ڈاکٹر پردھان کے مطابق ٹڈیوں کا فیز گریگیریا ہمیشہ ہی سخت موسم کے بعد آتا ہے جس کے دوران ٹڈیوں کے دشمن بالخصوص شکار خور ورٹی بریٹس (Vertibrate Predators)موسم کی سختیوں کی نذر ہوجاتے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں موسم کی سختیوں کا سامنا کرنے کے لئے ان کے پاس طریقے نہیں ہوتے۔ نتیجتاً ٹڈیوں پر بائیوٹک ریزز ٹینس (Biotic Resistance)یعنی حیاتیاتی وباء کم ہوجاتی ہے۔ ان کی افزائش بڑھ جاتی ہے اور وہ دَل بنانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ عمل دورانی انداز سے کچھ کچھ وقفوں کے بعد دہرایا جاتا رہتا ہے۔ جب ٹڈیوں کے افزائشی مقامات پر بائیوٹک ریززٹینس زیادہ ہوتی ہے تب وہ ٹڈوں کی طرح الگ الگ اپنی زندگی گزارتی رہتی ہیں لیکن جیسے ہی اس وباء میں کمی آتی ہے ان کی افزائش تیز ہوجاتی ہے اور دَل بننے لگتے ہیں۔

قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ٹڈیاں اپنا طرز زندگی دورانی انداز سے ایک فیز سے دوسرے فیز میں کیوں تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں انڈین اگریکلچرل رسرچ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کے ماہر حشریات ڈاکٹر ایس پردھان وہ واحد انٹومالوجسٹ ہیں جنہوں نے بائیوٹک تھیوری آف پییریوڈی سٹی آف لوکس سائیکل (Biotic Theory of Periodicity of Locust Cycle) پیش کرکے اس کی تشریح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نظریے کے مطابق یہ ٹڈیاں نیم ریگستانی علاقوں میں کثیر تعداد میں اپنی افزائش کرتی ہیں۔
ڈاکٹر پردھان کے مطابق ٹڈیوں کا فیز گریگیریا ہمیشہ ہی سخت موسم کے بعد آتا ہے جس کے دوران ٹڈیوں کے دشمن بالخصوص شکار خور ورٹی بریٹس (Vertibrate Predators)موسم کی سختیوں کی نذر ہوجاتے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں موسم کی سختیوں کا سامنا کرنے کے لئے ان کے پاس طریقے نہیں ہوتے۔ نتیجتاً ٹڈیوں پر بائیوٹک ریزز ٹینس (Biotic Resistance)یعنی حیاتیاتی وباء کم ہوجاتی ہے۔ ان کی افزائش بڑھ جاتی ہے اور وہ دَل بنانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ عمل دورانی انداز سے کچھ کچھ وقفوں کے بعد دہرایا جاتا رہتا ہے۔ جب ٹڈیوں کے افزائشی مقامات پر بائیوٹک ریززٹینس زیادہ ہوتی ہے تب وہ ٹڈوں کی طرح الگ الگ اپنی زندگی گزارتی رہتی ہیں لیکن جیسے ہی اس وباء میں کمی آتی ہے ان کی افزائش تیز ہوجاتی ہے اور دَل بننے لگتے ہیں۔

ٹڈیوں کے لئے انگریزی زبان کا لفظ لوکسٹ (Locust)استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کے لغوی معنی ہیں پلیگ یعنی یہ کسی وباء کی طرح ایک علاقے میں تباہی اور بربادی مچاسکتی ہیں۔ قدیم وقتوں ہی سے لوگوں کا مشاہدہ تھا کہ ٹڈوں کی بعض اقسام کچھ کچھ وقفوں کے بعد مخصوص مقامات پر اچانک ہی اپنی تعداد اتنی بڑھالیتے ہیں کہ جھنڈ یا دل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور پھر سب مل کر دور دراز کے علاقوں تک ہجرت کرکے نہ صرف نئے افزائشی علاقے تلاش کرلیتے تھے بلکہ راستے کے ہریالے علاقوں پر حملہ کرکے زبردست تباہی اور بربادی برپا کرتے تھے۔ مصر کے ٹڈی دَل کا تذکرہ تو قرآن میں بھی سورہ الاعراف میں کیا گیا ہے جہاں ٹڈی دَلوں کو آسمانی عذاب سے تعبیر کیا ہے جو فرعون کی قوم پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے نازل کیا گیا تھا۔
جو کیڑے آسمانی عذاب کی شکل میں کسی ملک اور قوم کی بربادی کا سبب بنیں ان کا تعداد میں بے شمار ہونا ضروری ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایک مربع میل بڑے ٹڈی دَل میں ٹڈیوں کی تعداد لگ بھگ ایک کروڑ ہوتی ہے اور عموماً یہ دل کئی کئی میل میں میں پھیلے ہوتے ہیں۔رکارڈس موجود ہیں کہ ماضی میں اتنے بڑے ٹڈی دَل بھی آچکے ہیں جنہیں کسی ایک مقام سے گزرنے میں دس دن صرف ہوتے تھے۔ افریقہ سے اڑنے والے ایک ٹڈی دَل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 1787کے آس پاس آیا تھا۔ وہ کسی وجہ سے سمندر پار نہ کرسکا اور اسی میں گر کر ختم ہوگیا۔ مری ہوئی ٹڈیاں بہہ بہہ کر ساحل پر جمع ہونے لگیں اور انہوں نے جلد ہی پچاس میل لمبی اور دوسے تین فٹ اونچی دیوار بنالی۔ ٹڈیوں کے سڑنے سے جو بدبو اٹھ رہی تھی اُسے تقریباً 150میل تک محسوس کیا جاسکتا تھا۔ ان مثالوں سے اندازا کیا جاسکتا ہے کہ ٹڈی دل کتنی ٹڈیوں پر مشتمل ہوسکتے ہیں اور ان ٹڈیوں سے کتنی تباہی اور بربادی ہوسکتی ہے۔

گذشتہ سالوں میں کی گئی تحقیقات سے پتا چلا کہ دنیا بھر میں ٹڈیوں کی گیارہ اقسام پائی جاتی ہیں اور باقی عام ٹڈوں کی قسمیں ہیں۔ ان میں تین اقسام ہندستان اور اطراف کے ممالک میں اہم تصور کی جاتی ہیں۔ عام زبان میں انہیں ڈیزرٹ لوکسٹ (Desert Locust)، مائیگریٹری لوکسٹ (Migratory Locust) اور بومبے لوکسٹ (Bombay Locust)کہتے ہیں۔ ان انواع کے سائنسی نام بالترتیب شیشٹوسرگا گریگیریا (Schistocera Gregaria)، لوکسٹا مائگریٹوریا (Locusta Migretoria)اور پتنگا سکسی ناٹا (Patanga Succinota)ہیں۔ ان تینوں انواع میں ہمارے ملک اور اطراف کے ممالک میں شِشٹوسرکا گریگیریا سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی یہی نوع ہم سب کی توجہ کا باعث بنی ہوئی ہے۔
ہمارے ملک میں ڈیزرٹ لوکسٹ کا خاص علاقہ راجستھان ہے جہاں جیسلمیر، بارمیر اور بیکانیر کے نیم ریگستانی علاقوں میں بڑی تعداد میں ٹڈیاں انڈے دیتی ہیں۔ ہر ماہ ٹڈی اپنے پیٹ کو کھینچ کر نم ریتیلی زمین میں چھ سے آٹھ سینٹی میٹر نیچے تک گھُساکر گچھوں میں انڈے دیتی ہے۔ ہر گچھے میں اسّی سے سو انڈے ہوتے ہیں جو 7-8ملی میٹر بڑے چاول کے دانوں کی طرح لگتے ہیں۔ انڈے دینے کے بعد مادہ ان پر جھاگ جیسی ایک رطوبت چھوڑ دیتی ہے جو خشک ہونے پر اسپنج جیسی ہوجاتی ہے اور اس طرح انڈوں کی حفاظت ہوتی ہے۔ ڈیڑھ سے چار ہفتوں کے اندر انڈوں سے چھوٹے چھوٹے بچے نکل آتے ہیں جو دیکھنے میں بالغ ٹڈیوں کی طرح لگتے ہیں۔ ان کے پَر نہیں ہوتے اور ان کا رنگ پیلا ہوتا ہے۔ ان بچوں کو ہاپرس (Hoppers)کہا جاتا ہے۔ یہ ہاپرس اسپنچ کاٹ کر اپنے سوراخوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ لاکھوں سوراخوں سے کروڑوں ہاپرس نکل کر کسی فوج کی مانند کودتے ہوئے کھانے تلاش میں کسی ایک سمت میں ایک ساتھ بینڈ بناکر مارچ کرتے ہیں۔ ریگستانی علاقوں میں اگر ہیلی کاپٹرس سے دیکھیں تو لگتا ہے بڑے بڑے پیلے رنگ کے دھبّے زمین پر حرکت کررہے ہیں۔ نیم ریگستانی علاقوں میں کچھ نہ کچھ ہریالی موجود ہوتی ہے۔
یہ ہاپرس اس ہریالی پر گزارا کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ بڑے ہوتے جاتے ہیں۔ ان کے قد کے ساتھ ان کے پَر بھی بڑے ہوتے جاتے ہیں۔ ہاپرس کو اپنی نشوونما مکمل کرنے اور پورا بالغ بننے میں تقریباً ڈیڑھ مہینے کا وقت لگ جاتا ہے اس دوران وہ پانچ بار اپنی باہری کھال اتارتے ہیں اور ہر بار تھوڑے بڑے ہوجاتے ہیں۔ بالغ ہونے کے بعد وہ ایک دَل کی شکل میں دور دراز کے علاقوں میں ہجرت کرتے ہیں اور جہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں پورے کے پورے علاقوں میں تباہی مچا دیتے ہیں۔
ہمارے ملک میں مقامی طور پر یہ دَل راجستھان میں بنتے ہیں جبکہ دوسرے افریقہ، عرب ممالک، ایران، افغانستان اور پاکستان سے راجستھان کے راستے یہاں آتے ہیں۔ ماہرین کے تجربات کے مطابق ایک ٹڈی کی دن بھر کی خوراک تین گرام ہری پتیاں ہیں۔ بظاہر یہ مقدار بہت کم لگتی ہے لیکن اگر صرف ایک میل بڑے دل میں موجود ایک کروڑ ٹڈیوں کے کھانے کا حساب لگایا جائے تو پتا چلتا ہے وہ تین سو کوئینٹل ہری پتیاں بنتا ہے۔ سوچئیے اگر کوئی ٹڈی دَل صرف چند میل لمبا ہو اور محض چند روز کسی مقام پر ٹھہر جائے تو وہاں کیا صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ ایک زمانے میں ان ٹڈیوں کی روک تھام کا کوئی طریقہ انسانوں کے پاس نہیں تھا۔ یہ دَل آسمانی عذابوں کی شکل میں بڑے بڑے علاقوں میں تباہی مچا دیتے تھے۔

آج ان موزی ٹڈیوں کی روک تھام کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جاتے ہیں جو ذیل میں مختصراً بیان کئے گئے ہیں:
1۔ ٹڈیوں کی نگرانی
ٹڈیوں کی کارکردگی پر لگاتار نظر رکھنا بے حد ضروری ہے یعنی ہمارے پاس یہ اطلاعات موجود ہونا چاہئے کہ ان کی آبادیوں میں وقت کے ساتھ کس طرح اتار چڑھاؤ ہورہا ہے، بالخصوص ان علاقوں کی نگرانی ضروری ہے جہاں ان کی افزائش ہوتی ہے۔ ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹڈیاں کب ایک فیز سے دوسرے فیز میں داخل ہونے والی ہیں تاکہ یہ اندازہ کیا جاسکے کہ کب ٹڈیاں افزائش کرکے دَل بنانے والی ہیں۔ یہ مشاہدات صرف اپنے ملک ہی میں ضروری نہیں بلکہ ڈیزرٹ لوکسٹ کی پوری بیلٹ میں ہونا ضروری ہے جو ہندوستان کے وسط سے شروع ہوکر پاکستان، افغانستان، ایران، عرب ممالک اور مغربی افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ ہمارے ملک میں لوکسٹ وارننگ آر گینائیزیشن (Locust Warning Organization) کا قیام 1939میں عمل میں آیا تھا۔
2۔ ٹڈیوں کی روک تھام
ٹڈی دَلوں کو ختم کرنے کے اقدامات کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ دَلوں کے بننے پر ہی روک لگائی جائے۔ اس کے دو طریقے ہیں:
(i) میکانکی طریقے استعما ل کرکے ٹڈیوں کے انڈوں کو ختم کیا جائے جیسے ان کے افزائش کے علاقوں میں ہل چلوائے جائیں یا پھر وہاں پانی بھر دیا جائے۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ انڈے ضائع ہوجائیں گے اور اتنے ہاپرس نہ پیدا ہوسکیں گے جو دَل بنانے کے لئے کافی ہوں۔
(ii) ہاپرس چونکہ فوجیوں کی طرح بینڈ بناکر ایک ساتھ مارچ کرتے ہیں اس لئے ان کے راستوں میں کھائیاں کھود کر انہیں مارا جاسکتا ہے۔ وہ کودتے ہوئے آئیں گے اور کھائی میں گر جائیں گے جن پر مٹی ڈال کر انہیں زندہ دفن کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر زہریلی دواؤں کا چھڑکاؤ بھی مفید ہوتا ہے۔
(iii) بالغ ٹڈیوں کو ختم کرنا بہت مشکل ہے تاہم ان کی کثرت کو کم کرنے کے لئے جگہ جگہ زہریلی دواؤں کا چھڑکاؤ کرنا چاہئے۔ آگ جلانا یا ہیلی کاپٹرس سے انسیکٹی سائیڈس کا چھڑکاؤ بھی مفید ہے۔
(iv) فصلوں کو ٹڈیوں سے بچانے کی سب سے مؤثر ترکیب نیم کی گٹھلیوں کا پاؤڈر پانی میں ملاکر چھڑکاؤ کرنا ہے۔ یہ طریقہ انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر ڈاکٹر ایس پردھان کی تحقیق ہے۔ نیم پاؤڈر کا 0.1%محلول چھڑکاؤ ٹڈیوں کو مارتا تو نہیں لیکن انہیں فصلوں کو کھانے سے روک دیتا ہے کیونکہ وہ ایک اینٹی فیڈینٹ (Anti Feedent) کا کام کرتا ہے۔
Add comment