ڈپریشن (شدید افسردگی)
واپس چلیں

محمد یوسف مڑکی حیدر آباد
اکتوبر 2018

ماضی کے مقابلے میں دور حاضر میں عوام الناس کو زندگی گزارنے کی بہت زیادہ سہولتیں دستیاب ہیں۔ معیار زندگی بلند ہوگیا ہے۔ لیکن معیار زندگی کو مزید سے مزید اونچا کرنے کی جد و جہد اور زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کی دوڑ میں اور پر تکلف وآرام دہ زندگی کے طریقے اپنانے کی کوششوں کے نتیجہ میں خصوصاً شہری باشندوں کو جسمانی بیماریوں کے علاوہ مختلف دماغی بیماریاں بھی لاحق ہونے لگی ہیں۔ ان میں ایک انتہائی افسردگی یا مریضانہ بے کیفی(ڈپریشن) بہت عام ہے۔ ویسے تو یہ بیماری ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہے لیکن آج کل ہمارے ملک جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی بڑھنے لگی ہے۔یہ ایک بہت ہی عام دماغی عارضہ ہے۔ اس عارضے کے الگ الگ مرحلے ہوتے ہیں۔ جس میں ہلکی افسردگی یا غمگینی سے لے کر انتہائی افسردگی اور مریضانہ بے کیفی کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ مریض اتنا افسردہ ہو جاتا ہے کہ اسے روزمرہ کی سرگرمیوں میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہتی۔ جسمانی بیماروں کی طرح اس عارضہ کا علاج آسانی سے نہیں کیا جاسکتا۔ جدید دور کی تناؤ سے بھری اور پیچیدگیوں سے پُرزندگی کے طرزو انداز نے اس مرض کو اور بھی بڑھاوا دینا شروع کیا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر حالیہ عرصہ میں عالمی ادارہ ئ صحت (World Health Organization) نے اپنے ایک عالمی یوم صحت کے موقع پر شدید افسردگی کے مرض کو موضوع بحث بنایا اور اس مرض کے بارے میں اس دن ساری دنیا میں عوام الناس کو معلومات فراہم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

بعض لوگوں کو معمولی قسم کی افسردگی ہوتی ہے اور بعض کو شدید قسم کی افسردگی لاحق ہوجا تی ہے۔ اب اکثر لوگوں کو اس کا علم ہونے لگا ہے کہ اگر شدید افسردگی لگاتار لاحق رہے تو اس کے بڑے منفی اثرات مریض کے جسم پر پڑتے ہیں۔ اس کی روز مرہ زندگی میں بگاڑ آجاتا ہے اور وہ معمول کے کام کاج کرنے میں خود کو قاصر محسوس کرنے لگتا ہے۔ ان حالات میں بعض مریض زندگی سے ہی بیزار ہوجاتے ہیں اور ان میں چند ایک کی تو حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی جان دینے پر تُل جاتے ہیں۔ اس لئے ماہرین صحت یہ کہتے ہیں کہ اول تو یہ کہ کسی کو بھی افسردگی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ حالات جیسے بھی ہوں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تاہم اگر حالات اس قدر بگڑ جائیں کہ افسردگی لاحق ہوجائے تو ایسے میں بہتر یہی ہے کہ قدرتی طریقوں کی مدد سے اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی بھرپور کوششیں کی جائیں۔

افسردگی کے شکار مریض کے اہل خانہ اور دوست احباب اس سلسلہ میں بہت اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ وہ مریض کو اس تکلیف دہ حالت سے نکالنے میں معاون بن سکتے ہیں۔

اس مرض کی اہم علامات میں شامل ہیں کسی نقصان کا شدید احساس‘ غم جو لگاتار لاحق رہتا ہے اور ذہن سے دور ہونے نہیں پاتا‘ جسمانی تونائی میں کمی‘ اطراف واکناف کے ماحول سے عدم دلچسپی اور تھکان وغیرہ۔ سکون کی نیند نہیں لے پانا یعنی رات میں بار بار نیند میں خلل بھی ایک اہم علامت ہے۔ ان سے ہٹ کر بھوک کی کمی‘ جسم میں کھجلی‘ متلی‘ چڑچڑاہٹ‘ جنسی نااہلی یا کمزوری‘قبض‘ سارے جسم میں درد اور دکھن‘ توجہ کے ارتکاز میں کمی‘ فیصلہ لینے میں ناکامی وغیرہ بھی دیکھے جاتے ہیں۔ شدید افسردگی کی صورت میں جسمانی حرارت میں کمی‘ خون دباؤ نارمل سے بہت کم ہوجانا‘ ایکدم گرمی کا احساس ہونا اور کپکپاہٹ جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

طویل عرصہ تک اگر خلاف معمول تشویش اور ذہنی دباؤ لاحق رہے تو اس سے بھی مریضانہ بے کیفی اور افسردگی لاحق ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ دواؤں کے لگاتار اور بے ذریع اور غیر منصفانہ استعمال سے جسم میں خلاف معمول انداز میں حیاتین اور بعض معدنیات کے جمع ہوجانے سے بھی ایسی افسردگی لا حق ہوسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کنساس کے سائنس دانوں نے اس دماغی بیماری پر ایک گہری تحقیق انجام دی ہے۔ طویل عرصہ پر محیط اس تحقیق کے بعد ا یک بہت ہی کارآمد اور اہم دریافت انہو ں نے یہ کی ہے کہ افسردگی سے نجات پانے میں مسکراہٹ (Smiling)بہت ا ہم رول انجام دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسکراہٹ جو ہر کسی کے بس میں ہوتی ہے اور قدرت نے اسے مفت مہیا کررکھا ہے ایک ایسی نعمت ہے کہ اس کی ہر کسی کو بھر پور قدر کرنی چاہئے۔

ان تحقیق کاروں نے بتایا کہ مسکراہٹ خلاف معمول طور پردل کے تیز دھڑکنے کی رفتار کو کم کرکے اعتدال پر لاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں مریض کے جسم پر جو مثبت اثرات پڑتے ہیں ان کے سبب وہ بڑی آسانی سے شدید افسردگی کی کیفیت سے نجات پاسکتا ہے۔ مذکورہ یونیورسٹی کے شعبہ میں نفسیاتی امراض کے سائنس داں تارا کرافٹ اور سارہ پریسمن کی یہ تحقیقات طبی دنیا میں اس ضمن میں بہت سے ممکنہ فوائد کے حصول کا دروازہ کھول سکتی ہیں۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انسانوں کی مسکراہٹ بھی مختلف اقسام کی ہوتی ہیں۔لہذا مختلف قسم کی مسکراہٹیں انسانی جسم پر مختلف انداز میں ا ثر ڈالتی ہیں۔ اسی لئے مریض کو مسکراہٹ سے متعلق واقف کروانا بھی اہمیت رکھتا ہے تب ہی تو مریض کو شدید افسردگی کے دوروں سے بچایا جاسکتا ہے۔ اتھلی اور بے معنی مسکراہٹ عموماً کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی۔ اس لئے مریض کو اپنے سارے ضروری و غیر ضروری تفکرات بھلاکر دل کی گہرائیوں سے مسکرانا سیکھنا چاہئے اور اس کو عادت بنالینا چاہئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مریض کے سارے جسم پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور چھوٹی بڑی کئی منفی ذہنی کیفیات کے ساتھ افسردگی جیسا مرض بھی رفتہ رفتہ رفع ہونے لگتا ہے۔

مسکراہٹ دراصل کسی شخص کی اندرونی خوشی کا ایک بھرپور اظہار ہوا کرتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خوشی کے اظہار میں الفاظ کا کوئی استعمال نہیں ہوتا۔ مسکراہٹ زندگی میں کسی بھی قسم کے ذہنی دباو اور افسردگی پیدا کرنے والے حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک ایسی مفیداور کارگر دوا کا کام کرتی ہے جو بالکل ہی مفت میسر آتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب انسان مسکراتا ہے تو اس کے چہرے کے 40سے زیادہ اعصاب (Nerves) حرکت میں آجاتے ہیں‘ چہرے کے حصے میں دوران خون بہتر ہوجاتا ہے اور مسکرانے والے کی مجموعی صحت پر بہت فائدہ مند اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف جب انسان مسکرانہیں رہاہوتا تب اس کے چہرے کے صرف 7اعصاب ہی متحرک رہتے ہیں۔

مذکورہ بالا اول الذکر تحقیق میں سائنس دانوں نے ویسٹرن یونیورسٹی کے 169رضاکار افراد کو منتخب کرکے انہیں تین گروہوں میں بانٹ کر تجربات انجام دیئے۔ یہ تجربات دو مرحلوں پر مشتمل تھے یعنی پہلے مرحلے میں ان کی تربیت کی گئی کہ کس طرح مسکرانا چاہئے اور پھر دوسرے مرحلے میں ان کو جانچا گیا۔ اس میں ان کو الگ الگ انداز میں مسکرانے کی تربیت دی گئی اور مسکرانے کے بعد ان کے جسم پر مرتب ہونے والے مجموعی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے واضح طور پر پتہ چلا کہ قدرت کی طرف سے ہوا اور پانی کی طرح مفت میں حاصل ہونے والی مسکراہٹ انسانی جسم پر حقیقی طور پر اچھے خاصے صحت بخش اثرات ڈالتی ہے۔

جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جسمانی ورزش سے افسردگی کو کم کرنے میں اور ایک نارمل زندگی گزارنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ روزانہ 20تا30منٹ کی ورزش اس سلسلہ میں بہت مفید ہوتی ہے۔ مختلف تحقیقاتی مطالعوں سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ بہت ہی شدید ورزشیں اس ضمن میں کوئی زیادہ فائدہ نہیں پہنچاسکتیں۔ اس لئے ہلکی ورزش جو با قاعدگی سے کی جائے بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ دوڑنا بھی ایک اچھی ورزش ہے جس سے دماغ میں انڈورفین نامی ہارمون کا اخراج عمل میں آتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں انسان ہشاش بشاش محسوس کرتا ہے اور خوشی سے ہمکنار ہو کر افسردگی جیسے مرض سے دور رہ سکتا ہے۔ رگ وپٹھوں کو بنانے کی ورزشیں اور غذائیں بھی اس مرض کو دور کرسکتی ہیں۔

افسردگی کو دور کرنے میں یوگا کی ورزشوں کا ایک اہم رول ہوتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ہفتہ میں دوبار یوگا کی کلاسس میں شرکت کرکے سلیقہ سے یوگا ورزشیں کی گئیں تو اس سے افسردگی اور خلاف معمول تشویش (Anxiety) کے عارضوں کی علامات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ واشنگٹن(امریکہ) کے ماہر علاج نفسیاتی امراض ڈاکٹر فارمن روز نتھل کہتے ہیں کہ مشرقی ممالک میں کی جانے والی یہ یوگا ورزشیں اس سلسلہ میں اس طرح مثبت انداز میں کام کرتی ہیں کہ یہ جسمانی لچک پیدا کرتی اور توجہ کے ارتکاز کو بڑھاتی ہیں جس سے ذہن میں بار بار اٹھنے والے منفی خیالات کے سلسلے ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ ورزشیں جسمانی طاقت میں اضافہ کرتی ہیں‘ گہری سانسیں لینے کے عمل سے واقفیت بڑھاتی ہیں‘ توازن کے احساسات پیدا کرتی ہیں اور مراقبہ کے جز کو تقویت پہنچا کر ایک بہترین اور موثر مانع افسردگی دوا کا سا کام کرتی ہیں۔

یوگا کی طرح قدیم چینی خصوصی ورزشیں‘ جن کوتائی چی کہا جاتا ہے‘ بھی افسردگی کے عارضہ کو دفع کرنے میں مدد گار بنتی ہیں۔ ملک چین میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ پایا گیا کہ افسردگی کے شکار مریضوں کو جب تائی چی ورزشیں تین مہینوں کے عرصہ تک پابندی سے کرائی گئیں تو ان میں اس مرض کی علامات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ یہ ورزشیں اگر لوگ گروہوں کی شکل میں کرتے ہیں تو ان سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

روزانہ با قاعدگی سے آدھا تا ایک گھنٹہ چلنا بھی ایک کافی مفید ورزش ہے۔ یہ ایک ہوا باشی ورزش ہے اور اسے کوئی بھی آسانی سے انجام دے سکتا ہے۔ اس کے لئے آپ کو صرف کرنا یہ ہوتا ہے کہ اچھے موزوں پر جوتے پہنیں اورمسطح راستے یا میدان وغیرہ میں ایک خاص رفتار سے چلیں۔ چلتے وقت آپ کے اندرلازمی طورپر خوشی اور مسرت کا احساس ہونا چاہئے اور یہ محسوس کرتے رہیں کہ اس سے بہت فائدہ مل رہا ہے۔

ایک ماہر کہتے ہیں کہ جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا اچھا ہے اسی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہ کر اپنے ذہن کو ناکارہ اور بیمار بنانے کی بجائے اٹھ کر چلنا شروع کرنے میں دانشمندی ہے۔اگر کسی کو افسردگی کے مرض نے ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے پر مجبور کردیا ہے اورچلنے پھرنے میں کوئی دلچسپی نہیں آتی تو اس کو چاہئے کہ روزانہ تھوڑا تھوڑا ہی وقت چلا کرے اور اس طرح آہستہ آہستہ اپنے چلنے کی رفتار اور وقت کو بڑھاتا جائے۔

گھر کے اندر کے کام کرنے کے علاوہ گھر کے باہر کئے جانے والے کام بھی خصوصی دلچسپی سے انجام دینا شروع کردیں۔ گھر کے ضروری کام کریں جیسے باغبانی وغیرہ یا بچوں یا ساتھیوں کے ساتھ چھوٹے موٹے کھیل کود میں حصہ لیں۔جیسے گیند کو ایک دوسرے کی طرف پھینکنا اور پکڑنا یا اپنی گاڑی یا سیڑھیاں وغیرہ دھونا وغیرہ۔ واضح رہے کہ اس دوران زیادہ تر توجہ ان کاموں کے خوش اسلوبی سے انجام دینے کی طرف رہے۔ اپنی ناکامیوں اور اپنے رنج وغم کے لمحوں وغیرہ کو ذہن سے یکسر پاک رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

سورج کی نرم شعاعیں بھی مزاج کو ہلکا پھلکابنانے اور خوشی کا احساس دلانے اور زندگی کی مسرت سے بھر پور سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دلانے میں اہم کردار اداکرتی ہیں۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ دھوپ دماغ میں ایک اہم کیمیائی مرکب سیروٹونن کونارمل مقدار میں خارج کرنے میں تعاون کرتی ہے۔ اس لئے خاص طور پر صبح اور شام کی ہلکی دھوپ میں وقت گزارنا بھی اس تکلیف دہ مرض کو دور رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔

نوٹ:یاد رہے کہ افسردگی کے علاج کیلئے آج کل بہترین دوائیں دستیاب ہیں لیکن یہ بھی واضح رہے کہ ان ایلوپیتھی دواؤں کے ذیلی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے قدرتی طور پر اس مرض سے چھٹکارا پانے کی کوششیں مفید ہوتی ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ ورزشیں صرف معاون بنتی ہیں‘ علاج کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔

مریضوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر کا جائزہ لینے کی بجائے دوسرے لوگوں کے بارے میں اور حالات پر توجہ دینا شروع کریں۔ بات چیت کریں۔ دن بھر کی جسمانی محنت اور خاصے وقت کے لئے کی گئی ورزش کسی بہترین نیند آور دوا کا کام کرتی ہے اور ذہن میں فرحت کا احساس پیداکرتی ہے۔ ورزش سے نہ صرف جسمانی رگ وپٹھے صحیح ساخت میں آتے ہیں بلکہ یہ ایک مثبت احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے کچھ حاصل کیا ہے۔یہ احساس بھی افسردگی کودفع کرنے میں مدد گار بنتا ہے۔ آئیے اس مرض کے آسان علاج کے ضمن میں قدرتی جڑی بوٹیوں اور بعض غذاؤں سے اس کے علاج کا جائزہ لیں۔ یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ غذاوں اور جڑی بوٹیوں کا علاج روایتی ایلوپیتھی علاج کا مکمل بدل ثابت ہونا ضروری نہیں ہے تاہم اگر اس عارضہ کی علامات ہلکی ہوں اور مریض ان قدرتی طریقہ ہائے علاج پر پابندی اور یقین کے سا تھ عمل کرے تو یہ عارضہ شدید صورت اختیار کرنے سے رک سکتا ہے۔

(1) سیرو ٹونن بڑھانے والی غذائیں

طبی تحقیقات نے واضح کیا ہے کہ دماغ میں ایک کیمیائی مرکب بنتا ہے جس کو سیروٹونن کہتے ہیں۔ یہ مرکب خوشی اور مسرت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ وضح رہے کہ خوشی اور مسرت افسردگی کو دفع کرتے ہیں۔ ماہرین تغذیہ کہتے ہیں کہ چند غذائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو سیروٹونن کی مقدار کو بڑھاتی ہیں۔ لہذا اگر یہ غذائیں پابندی سے کھائی جاتی ہیں تو افسردگی قریب نہیں آتی اور اگر آرہی ہے تو دفع ہوسکتی ہے۔ ایسی غذاوں میں حسب ذیل شامل ہیں:

  • مچھلی کا تیل جو اومیگا 3نامی چربی کے ترشوں سے معمور ہوتا ہے۔
  • صحت بخش چکنائی جیسی کہ ناریل کے تیل میں پائی جاتی ہے۔
  • السی میں پایا جانے والا تیل
  • انڈے

(2) سبز چائے

یوں تو سبز چائے میں بھی کیفین کی مقدار پائی جاتی ہے لیکن اس کے سا تھ ایل۔ تھیانائن نامی ایک مرکب ایسا پایا جاتا ہے جو کیفین کے ساتھ مل کر کر مزاج میں چستی پیدا کرتا ہے۔یہ دماغی دباو کو بھی کم کرتا ہے اور دماغ کے ایک اور مرکب ڈوپامائن کی مقدار کو نارمل بنانے کا کام کرتا ہے۔ ایک کپ گرم ابلتے پانی میں سبز چائے کا ایک ٹی بیاگ ڈال کر تھوڑی دیر رکھ دیں اور اس کے بعد چائے کی طرح پئیں۔

(3) گل بابونہ (Chamomile)کی چائے

افسردگی اور نیند میں خلل دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ گل بابو نہ میں پایا جانے والا ایک فلاوینائیڈ مرکب دماغی دباو کو کم کرتا ہے۔ گل بابونہ سفید رنگ کے خوشبودار پھول ہوتے ہیں جن کا مزہ کڑوا ہوتا ہے۔ یونانی حکیم دیسقوریدوس نے آج سے دوہزار سال پہلے اس کا ذکر اپنی کتابوں میں کیا تھا۔ جدید دور میں بھی اس پر بہت تحقیق ہوئی ہے اور اب اس کا ایک فائدہ یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ افسردگی کو دور کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔

ایک کپ ابلتے گرم پانی میں دو چائے کے چمچہ گل بابونہ کا سفوف ڈالیں اور اچھی طرح ہلائیں۔ اس میں تھوڑا دودھ اور اصلی شہد بھی ملالیں تو اس کا مزہ اچھا بن جاتا ہے۔ 5منٹ بعد چھان کر چائے کی طرح نوش کیا کریں۔ رات سونے سے قبل پیا کریں تو زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔

(4) میگنیشیم سے بھرپور غذائیں

میگنیشیم ایک ایسا معدنی جز ہے جو انسانی صحت میں اہم رول ادا کرتا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ا نسانی جسم میں جتنے معدنیات پائے جاتے ہیں ان میں یہ چوتھا سب سے زیادہ مقدار میں پایا جانے والا معدن ہے۔ اسے غذا کے ذریعہ لینا پڑتا ہے۔ جسم میں جاری و ساری حیاتی کیمیائی افعال میں باقاعدگی لانے کے ذمہ دار کوئی 300سے زائد خامروں (Enzymes) کے لئے یہ معاون جز کے طور پر کام کرتا ہے۔ ان افعال کے بغیر انسانی جسم نہ صرف یہ کہ توانائی پیدا کرنے سے قاصر رہ جاتا ہے بلکہ بے حداہمیت کے حامل ڈی این اے اور آر این اے کی تیاری ممکن نہیں ہوتی۔دل کی دھڑکن میں باقاعدگی نہیں آسکتی اور دماغ ضروری کیمیائی مرکبات کو قائم نہیں رکھ پاتا۔ جدید دور کی فاسٹ فوڈ قسم کی غذاوں میں میگنیشیمشاذ و نادر ہی موجود ہوتا ہے اور ذہنی دباو مسلسل لاحق رہے تو اس سے بھی یہ اہم معدنی جز تیزی سے خرچ ہوجاتا ہے۔ یہ جز جسم میں تیار نہیں ہوتا اسے غذا کے ذریعہ لینا ضروری ہوتا ہے۔اس کے اہم ذرائع حسب ذیل ہیں۔

  • بھونے ہوئے بادام یا کاجو
  • کیلا(موز)
  • ابلی ہوئی پالک
  • تیل کے بیج اور گہرے ہرے رنگ کی سبزیاں
  • راجما(دال) (Black Beans)
(5) کدو کے بیج

کدو کے بیجوں میں موجود ایک مرکب۔ ایل۔ ٹریپٹو فان جسم میں سیروٹونن اور نیاسن نامی مرکبات میں بدل جاتا ہے۔ اس سے ذہنی آسودگی ملتی ہے اور نیند بھی اچھی آتی ہے اورافسردگی کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

تازہ کدو کے بیج ویسے ہی کھائے جاسکتے ہیں یا پھر کسی پھل کے ٹکڑوں کے ساتھ کھانا بھی مفید ہوتا ہے۔ عموماً رات میں سونے سے چند گھنٹے قبل کدو کے بیج کھانا زیادہ مفید ہوتا ہے۔

(6) گلاب کی پتیاں

قدرتی گلاب کے پھول کی پتیاں افسردگی دور کرنے میں بہت معاون ہوتی ہیں۔در اصل گلاب کے پھول کی پتیوں میں موجود کیمیائی مرکبات انسان کے اعصابی نظام کو آسودگی بخشتے ہیں جس کے نتیجہ میں ذہنی دباؤ اور جذبات سے جڑے ہارمونس میں ایک مفید توازن پیدا ہوتا ہے اور صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔لہذا قدرتی گلاب کے پھول کی پتیاں افسردگی دور کرنے کے ساتھ ساتھ سکون آور دوا کا سا کام کرتی ہیں۔

اس کے لئے پاؤ لیٹر ابلتے پانی میں قدرتی گلاب کی تقریباً پندرہ گرام پتیاں ڈالیں۔ اس میں تھوڑی شکر ملاکر تھوڑی دیر رکھیں اورٹھنڈا ہونے کے بعدچھان کر پی لیا کریں۔

(7) جائفل اور آملے کا رس

ایک بڑا چمچہ تازہ آملے کا رس لے کر اس میں پاو چائے کا چمچہ برابر جائفل کا سفوف ملاکر روزانہ تین بار پی لیا کریں۔

(8) ملیٹھی کی چائے

ایک کپ پانی میں پاو چائے کا چمچہ ملیٹھی کا سفوف ڈال کر چائے کی طرح ابال لیں۔ اسے روزانہ ایک تا تین بار پیا کریں۔

(9) سیب شہد اور دودھ

سیب کو تو ہر مرض کو دور رکھنے والے پھل کے طور پر جانا جاتا ہے لہذا افسردگی کے قدرتی علاج کے لئے بھی یہ ایک اہم علاجی شئے ثابت ہوتا ہے۔ اس پھل میں موجود مختلف کیمیائی مرکبات جیسے پوٹاشیم‘ فاسفورس‘ حیاتین B1 وغیرہ جسم میں گلوٹامک ترشے کی تیاری میں مددگار بنتے ہیں۔ یہ ترشہ اعصاب کے خلیوں کو غیر ضروری ٹوٹ پھوٹ سے بچاتا ہے۔نتیجتاً اعصاب صحت مند بنے رہتے ہیں اور نہ صرف افسردگی جیسے ہٹیلے دماغی مرض بلکہ دوسرے چھوٹے بڑے دماغی امراض سے افاقے میں بھی یہ پھل مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے لئے روزانہ ایک سیب تھوڑے ا صلی شہد اور دودھ کے ساتھ کھایا جاتا ہے

۔ یہ نسخہ اعصاب کے لئے ایک موثر ٹانک کا کام کرتا ہے اور اعصاب میں نئی توانائی بھر کر زندگی کو خوشیوں سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

(10) الائچی

ایک کپ پانی کو ابال کر اس میں دو عدد سبز الائچی کے بیجوں کو پیس کر ڈالیں اور اس میں تھوڑی شکر ملالیں اور نیم گرم پی لیا کریں۔

(11) ہالون کی جڑ (Asparagus)

یہ جڑ بہت سے تغذیائی اجزا کا خزانہ ہوتی ہے لہذا دیگر کئی جسمانی اور دماغی امراض کے علاوہ افسردگی کے قدرتی علاج میں بھی بہت مفید پائی گئی ہے۔ ہالون کی خشک جڑ کا سفوف ایک تا دو گرام روزانہ پانی کے سا تھ پیا جاتا ہے۔

(12) حیاتین B والی غذائیں

آپ کی روزانہ کی خوراک آپ کے جسم پر ہی نہیں بلکہ دماغ کی صحت پر بھی راست اثر ڈالتی ہے۔بعض لوگوں کی غذا میں کسی بھی اہم تغذیہ کی کمی سے افسردگی کی کیفیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ تغذیائی علاج کی مدد سے دماغ کے لئے اہم کیمیائی مرکبات جیسے سیروٹونن وغیرہ کی مناسب مقدار پیدا ہونے لگتی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ حیاتین Bسے بھرپور غذاوں کا استعمال افسردگی کو قریب آنے نہیں دیتا۔ ایسی غذاوں میں شامل ہیں ثابت اناج‘ ہری ترکاریاں‘ انڈے اور مچھلیاں وغیرہ۔

نوٹ:

بعض لوگوں کو چند جڑی بوٹیوں اور غذائی اشیا سے الرجی ہوا کرتی ہے اس لئے کوئی بھی علاج کو اپنانے سے پہلے کسی مستند ماہر علاج دماغی امراض یا حکیم سے مشورہ کرلینا چاہئے جو مریض کے مزاج کے علاوہ الرجی وغیرہ کو مد نظر رکھ کر علاج کا طریقہ تجویز کر تے ہیں۔

نوٹ
  • رسالے میں شائع شدہ تحریروں کو بغیر حوالہ نقل کرنا ممنوع ہے۔
  • قانونی چارہ جوئی صرف دہلی کی عدالتوں میں کی جائے گی۔
  • رسالے میں شائع شدہ مضامین میں حقائق واعداد کی صحت کی بنیادی ذمہ داری مصنف کی ہے۔
  • رسالے میں شائع ہونے والے مواد سے مدیر،مجلس ادارت یا ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اب تک ویب سائٹ دیکھنے والوں کی تعداد   97191
اس ماہ
Designed and developed by CODENTICER development