روشنی کی رفتار کی ادھوری کہانی
واپس چلیں

ڈاکٹر وصی حیدر
مئی 2018

روشنی کی رفتار کے لئے سائنسداں انگریزی کے چھوٹے حرف c کا استعمال کرتے ہیں۔ شاید اس کی یہ وجہ ہے کہ 16 ویں صدی میں سائنسی تحقیقات کا مرکز اٹلی تھا اور تمام سائنسی مقولے لاطینی (Latin) زبان میں ہی لکھے جاتے تھے۔ لاطینی میں Celeritas لفظ کا مطلب تیز رفتاری ہے۔ روشنی کی رفتار (یعنی c)کی اہمیت اسلئے بھی بہت بڑھ گئی۔ کیونکہ یہ آئن سٹائن کے مشہور مقولہ E=mc2 کا اہم جز ہے اور پوری کائنات میں قوت (Energy) اور مادہ کے بیچ کی کڑی ہے۔ بہت عرصہ تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ روشنی کی رفتار معلوم کرنا ناممکن ہے اور زیادہ تر سائنسداں یہ سوچتے تھے کہ روشنی لامحدود (Infinite) رفتار سے چلتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو 'c' کااستعمال سائنس کے کسی بھی مقولہ میں ناممکن ہوتا۔ اس لئے روشنی کی رفتار کا استعمال آئن سٹائن کے مشہور مقولہ میں ہونے سے پہلے یہ ثابت ہونا ضروری تھا کہ 'c' ایک بڑا لیکن محدود نمبر ہے۔

گلیلیو پہلا سائنسداں تھا جس نے شاید پہلی بار روشنی کی رفتار کو تجربہ کرکے ناپنے کے بارے میں سوچا اور ایک مقولہ بھی لکھا۔ لیکن تب تک وہ چرچ کی گرفتاری میں کافی بوڑھا اور آنکھوں سے معذور ہوچکا تھا۔ گلیلیو کے انتقال کے بعد جب اٹلی کے شہرفلورینس (Florence) کی تجرباتی سائنس کی تنظیم کے لوگوں نے اس کا مقولہ پڑھا تو یہ فیصلہ کیا کہ اس کے بتائے ہوئے تجربہ کو ضرور زیرِ عمل لایا جائے۔ تجربہ نہایت آسان تھا۔ دو پہاڑیوں پر ایک میل کی دوری پر دو لوگ ایک ایک لال ٹین لیکر کھڑے ہوں اور ایک مقررہ وقت پر اس کی روشنی ایک دوسرے کی طرف کریں اور روشنی کتنی دیر میں ایک سے دوسرے کے پاس پہونچتی ہے اس کو ناپیں تو روشنی کی رفتار معلوم ہوجائے گی۔ یہ تجربہ ناکام ہوا اور ایسا لگا کہ روشنی چشم زدن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہونچ گئی۔ فلورنس کے تجربہ کرنے والوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ وقت کو ناپنے کے آلات بھی ناقص ہیں اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ آنے والی نسلیں روشنی کی بہت تیز رفتار کو بھی ناپ سکیں گیں۔

1642میں گلیلیوکے انتقال کے بعد 1670 میں جین ڈامنیک کسینی نام کا ایک فلکیاتی سائنس کا ماہر پیرس کی فلکیاتی تجربہ گاہ کا سربراہ مقرر ہوا۔ اس کی ذمہ داریوں میں فرانسسی سائنس میں جان پھونکنا اور فلکیاتی تجربہ گاہ کی بہت ساری نئی عمارتوں کی تعمیر کاکام تھا۔

وہ اپنے کاموں کی کامیابی کے لئے اس لئے بھی بیچین تھا کیونکہ اس کا اصلی نام جیوانی ڈامینک (Giovanni Domnique) تھا اور وہ اٹلی کا رہنے والا تھا۔ حالانکہ فرانس کا بادشاہ اس کو پسند کرتا تھا اور اس کے کاموں کے لئے پیسہ کی کوئی کمی نہ تھی لیکن اس کو ہر وقت یہ ڈر تھا کہ کہیں بادشاہ کی نظرِ عنایت اگر ہٹ گئی تو اس کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ ان وجودہات کی بنا پر وہ تحقیقات کے بجائے ہر وقت حکام کو خوش کرنے میں لگا رہتا تھا۔

کسینی نے اپنے خاص دوست جین پکارڈ کو سفیر کی حیثیت سے ڈین مارک کی پرانی مشہور فلکیاتی تجربہ گاہ کا معائنہ کرنے کے لئے بھیجا۔ یہ تجربہ گاہ ایک مشہور فلکیاتی سائنسداں ٹائکوبراہے (Tycho Brahe) نے بنائی تھی اس کے بارے میں دنیا بھر میں شہرت تھی۔ ٹائکوبراہے کے سیاروں سے متعلق مشاہدات کا استعمال کیپلرنے سیاروں سے متعلق مشہور مقولوں میں اور نیوٹن نے کیا۔

کسینی کے سفیر پکارڈ کا اصل کا م اورینی بورگ کا صحیح طول البلد ناپنا جو جہازرانی میں کام آتا ہے اور وہاں سے ہوشیار نوجوان لوگوں کو فرانسیسی تجربہ گاہ کے لئے بھرتی کرنا تھا۔ اورینی بورگ کی تجربہ گاہ ٹائکوبراہے کے انتقال کے بعد خستہ حال تھی۔ پکارڈ نے اپنا تحقیقاتی کام کیا اور واپسی میں وہ اپنے ساتھ ایک 21 سالہ ہوشیار نوجوان اول رومر (Ole Roemer) کو اپنے ساتھ پیرس کی تجربہ گاہ میں کام کرنے کے لئے لایا۔ رومر ایک خودّار،ذہین اور محنتی نوجوان تھا اور وہ اپنے تحقیقاتی کام سے شہرت کا خواہاں تھا۔

کسینی حالانکہ بوڑھا ہوچکا تھا لیکن جوپیٹر (Jupiter) اور اس کے سیاروں کے سلسلہ میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ جانکار مانا جاتا تھا۔ اس نے ان سیاروں کے مطابق لاتعداد مشاہدات کر رکھے تھے۔ اس کو یہ ڈر تھا کہ ان مشاہدات کو استعمال کرکے یہ نیا نوجوان اس پر سبقت نہ حاصل کرلے۔ یہ ڈر اسلئے بھی اور زیادہ تھا کیونکہ جوپیٹر کے ایک سیارے آئیو(IO) کے چکر لگانے کے وقت میں کچھ مسئلہ تھا۔ اوسطاًوہ 42.5 گھنٹہ میں ایک چکر پورا کرتا تھا لیکن کبھی وہ وقت سے پہلے اور کبھی وقت کے بعد نظر آتا تھا۔ اس مسئلہ کا حل کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔

اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کسینی کا خیال تھا کہ اور زیادہ بہتر طریقہ سے مشاہدات کی ضرورت ہے جبکہ نوجوان رومر کا ماننا تھاکہ اصل ضرورت نئی اور مختلف سوچ کی ہے اور مشاہدات کا انبار لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کسینی کا خیال تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ آئیو(IO) کامشاہدہ سیدھی طرح سے نہیں چلتا ہے یا جوپیٹر پر بادل ہیں جسکی وجہ سے آئیو کے دکھائی دینے کا وقت کبھی زیادہ یا کم ہوجاتا ہے۔ جبکہ رومر کا ماننا تھا کہ اصل غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہماری زمین سورج کے چاروں طرف چل رہی ہے۔

کسینی کا ماننا تھا کیونکہ روشنی لا محدود رفتار سے چلتی ہے اس لئے اس کو آئیو (IO) سے ہم تک پہونچنے میں کوئی وقت نہیں لگے گا۔ اس کے ذہن میں گلیلیو کے بتائے ہوئے روشنی کی رفتار تجربہ کا منفی نتیجہ بیٹھا ہوا تھا۔ اسی لئے اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ زمین اس طرح سورج کے چاروں طرف گھومنے میں کس جگہ ہے اس بات سے آئیو (IO) سے آنے والی روشنی کے وقت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ جب کسی مسئلہ کا حل نہ نکلے تونہ صرف نئی طرح سے سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ان تمام پرانے مفروضوں (Assumptions) پر بھی نئے انداز سے غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائنس کی تحقیقاتی منزلوں میں کئی بار اس طرح کی دشواریوں کا سامنا ہوا ہے۔ لیکن ہمیشہ ہی ان دشواریوں کو حل کرنے کی جستجو نے نئی انقلابی سوچ کو جنم دیا ہے۔ بیسویں صدی کے شروع میں زیادہ تر سائنسداں یہ سوچتے تھے کہ صرف چند چیزوں کو چھوڑکر چاند ستاروں کے گھومنے سے لیکر زمین پر مادّہ کے تمام پہلوؤں کو نیوٹن کے مقولوں کے استعمال سے سمجھا جاسکتا ہے لیکن چند چیزوں کو نئے انداز سے سمجھنے کے عمل نے پرانی سوچ سمجھ کو پوری طرح بدل ڈالا۔

آئیو کے جوپیٹر کے گرد چکّرلگانے کے ناپے گئے مختلف اوقات کے مسئلہ کا حل بھی اس پرانے مفروضوں کو چھوڑ کر ہی حاصل ہوا۔ سب لوگوں کے ماننے سے قطع نظریہ رومر (Roemer) نے یہ سوچا کہ اگر یہ مانا جائے کہ روشنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں کچھ وقت لیتی ہے تو دیکھیں کیانتیجہ نکلتا ہے۔ یعنی یہ کہ روشنی کی رفتار محدود ہے۔ اس زمانہ میں یہ ایک انقلابی سوچ تھی۔

رومر نے غورکیا کہ زمین سورج کے چاروں طرف گھومتی ہے اور جب آئیو جوپیٹر کے پیچھے سے سامنے آتا ہے تو اس سے روشنی چل کر ہم تک پہونچتی ہے۔ گرمیوں میں جب ہماری زمین جوپیٹر کے نزدیک ہوتی ہے تب آئیو سے آنے والی روشنی جلد ہی پہونچ جاتی ہے اس کے مقابلہ میں اسی سال کی سردیوں میں ہماری زمین سورج کے گِرد گھومتے ہوئے جوپیٹر سے دور ہوجاتی ہے۔ اس لئے آئیو سے آنے والی روشنی کو زمین کے سورج کے گرد گولے کی موٹائی کا زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اس لئے سردیوں میں آئیو سے آنے والی روشنی کو زیادہ وقت لگتا ہے۔

رومر نے جب کسینی کے لئے ہوئے مشاہدات کو بہت غور سے اوپر ذکر کئے گئے حالات کی روشنی میں دیکھا تو 1676 کی گرمیوں تک اس کی سمجھ میں اس مسئلہ کا حل بالکل صاف دکھائی دیا۔ اس نے جب پورا حساب کتاب کیا تو وہ یہ بھی معلوم کرپایا کہ آئیو سے آنے والی روشنی کو گرمیوں کے مقابلہ میں سردیوں میں کتنے منٹ زیادہ لگیں گے۔ نوجوان رومر اپنے ان نتیجوں سے بہت ہی خوش ہوا۔ اس نے یہ پتا لگالیا کہ روشنی کی رفتار کیا ہے جو ایک نہایت اہم دریافت تھی اور کسی اور کو نہیں معلوم تھی۔ اس طرح اس نے یہ بھی ثابت کردیا کہ آئیو (IO) جوپیٹر کے گِرد گھومنے میں کسی طرح کا کھلواڑ نہیں کرتا بلکہ تمام اور سیاروں کی طرح کیپلرکے معلوم کردہ سائنس کے قوانین کے تحت ہی جوپیٹر کے چاروں طرف ایک خاص مقررہ وقت میں چکر لگاتا ہے۔

رومر نے یہ اہم نتیجہ کسی کو نہیں بتایا۔ اس کے بجائے فلکیاتی تحقیقات کے رسالہ کی میٹنگ میں اس کا انکشاف کیا۔ وہاں کسینی نے اپنے پرانے مشاہدات کی بنا پر یہ اعلان کیا کہ آئیو 9 نومبر کی دوپہر 5 بج کر 24 منٹ پر دکھائی دیگا۔ جبکہ رومر نے یہ چیلینج کیا کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا بلکہ آئیو 5 بج کر 37 منٹ پر یعنی 10 منٹ کے بعد) ہی دکھائی دیگا۔ رومر نے فلکیاتی ماہرین کے سامنے کسینی کو چیلینج کیا۔ یہ پیشن گوئی اگست کے مہینہ میں ہوئی اور پھر 9 نومبر کو نہ صرف فرانس بلکہ پورے یورپ کی دوربین آئیو کو دیکھنے کے لئے تیار ہوگئیں۔ ہر جگہ کے مشاہدہ سے یہی خبر آئی کہ رومر کے کہنے کے مطابق آئیو ٹھیک 5 بج کر 37 منٹ اور 49 سیکنڈ پر ہی دکھائی دے پایا۔ کسینی کی شہرت اور اثر رسوخ کی وجہ سے لوگ رومر کی پیشن گوئی صحیح ثابت ہونے کے باوجود روشنی کے مطابق پرانے مفروضہ کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے کہ روشنی محدود رفتار سے چلتی ہے۔ رومر دل برداشتہ ہوکر ڈین مارک واپس چلا گیا۔ یورپ کے سائنسدانوں کو تقریباً 50 سال لگے تب انہوں نے روشنی کی رفتار کے سلسلہ میں رومر کے مشاہدات کو صحیح تسلیم کیا۔ عام لوگوں کی طرح اکثر سائنسدانوں کو بھی اپنے پرانے مفروضوں کو چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔

رومر نے یہ ثابت کیا کہ روشنی ایک محدود رفتار سے چلتی ہے اس نے یہ بھی معلوم کیا کہ روشنی 67 کروڑ (670 Million) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔ یہ ایک نہایت اہم اور دور رس نتیجہ تھا۔ اس کی وجہ سے جب کبھی بھی روشنی کی رفتار کی بات ہوگی رومر کا ذکر ضرور ہوگا۔ رومر کی مہارت اور ذہانت اس بات سے بھی عیاں ہے کہ 200 سال بعد بھی ناپی گئی رفتار بس تھوڑی ہی زیادہ ہے جبکہ اس لمبے عرصے میں خاص طور سے وقت ناپنے کے طریقوں میں بہت ترقی ہوچکی ہے۔ اب سمجھ میں آتا ہے کہ گلیلیو کا بتایا ہوا تجربہ کیوں ناکام ہوا کیونکہ اس زمانہ میں وقت ناپنے کے اوزار بہت ہی ناقص تھے اور روشنی کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ آواز کی رفتار تقریباً 700 میل فی گھنٹہ ہے اور روشنی اس سے 9 لاکھ گنازیادہ تیزی سے چلتی ہے۔ سورج سے ہم تک پہونچنے میں 8 منٹ سے زیادہ کا وقت لیتی ہے۔

روشنی کی ایک حیرت انگیز خصوصیت اور بھی ہے وہ یہ کہ اگر آپ روشنی کے گھوڑے پر سوار ہوں تو آپ سے کوئی بھی آگے نہیں نکل پائے گا اور وقت گزرنے کے ساتھ آپ کی عمر بھی تھم جائے گی۔ یہ باتیں 20 صدی کے شروع میں آئن سٹائنکے انقلابی مقولہ کے بعد سامنے آئیں۔ یہ ایک الگ کہانی کا موضوع ہوگا۔

نوٹ
  • رسالے میں شائع شدہ تحریروں کو بغیر حوالہ نقل کرنا ممنوع ہے۔
  • قانونی چارہ جوئی صرف دہلی کی عدالتوں میں کی جائے گی۔
  • رسالے میں شائع شدہ مضامین میں حقائق واعداد کی صحت کی بنیادی ذمہ داری مصنف کی ہے۔
  • رسالے میں شائع ہونے والے مواد سے مدیر،مجلس ادارت یا ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اب تک ویب سائٹ دیکھنے والوں کی تعداد   135569
اس ماہ
Designed and developed by CODENTICER development