کیا کھائیں کیا نہ کھائیں
واپس چلیں

ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی
مارچ 2018

اب سے کوئی پچاس ساٹھ برس پہلے تک مرغ وماہی صرف امراء کے دسترخوانوں کی زینت ہوا کرتے تھے مگر آج غرباء اور متوسط درجے کے لوگ بھی مرغ یوں کھاتے ہیں گویا وہ آلو، گوبھی کھا رہے ہوں۔ یقیناً یہ صورت حال ترقی کی دین ہے۔ نئی ٹیکنولوجی کے استعمال سے کثیر تعداد میں موٹی تازی مرغیاں اس طرح پیدا ہورہی ہیں جیسے زمین سے ترکاریاں اگتی ہیں۔ البتہ اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ وہ مرغ کے گوشت کے ساتھ ایسے قوی اور توانا خوردبینی جراثیم کو بھی اپنا جزو بدن بنارہے ہیں جن پر انتہائی مؤثر ادویا یعنی اینٹی بائیوٹکس بھی بے اثر ثابت ہوتی ہیں۔ 1945 میں الیکزینڈر فلیمنگ نے پینسلین کی دریافت کی اور نوبل انعام حاصل کیا۔ اُس وقت اُس نے دنیا کوآگاہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ مستقبل میں اس بات کا خدشہ ہے کہ کم خوراکوں کی شکل میں یہ دوا کہیں انسانوں میں اپنے تئیں قوت مدافعت نہ پیدا کردے۔اُس کی یہ پیش گوئی آج حرف بہ حرف صحیح ثابت ہورہی ہے۔ پینسلین کی دریافت کے بعد آج تک نہ معلوم کتنی ہی دیگر اینٹی بائیوٹکس وجود میں آچکی ہیں لیکن فلیمنگ نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا وہ ان سب ہی کے لئے ویسا ہی سچ ثابت ہو رہا ہے جیسا کہ پینسلین کے لئے تھا۔

مثال کے طور پر جدید انداز سے مرغی بانی کرتے وقت اینٹی بائیوٹکس نہ صرف مرغیوں میں مختلف بیماریوں کے سدّباب کے لئے بلکہ کم وقت میں اُن کی بہتر اور منفعت بخش نشوونما کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں صحت عامہ کے ماہرین بہت دنوں سے اس شبہہ کا اظہار کررہے ہیں کہ مرغیوں میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال لوگوں میں ان کے تئیں قوت مدافعت پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت نے اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کئے۔

حال ہی میں دہلی کی ایک تنظیم سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ نے اپنی ایک تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ دہلی اور اس کے اطراف سے حاصل کئے گئے مرغیوں کے نمونوں میں 40 فیصدی کے گوشت میں اینٹی بائیوٹکس کے باقیات موجود تھے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مرغیوں کو اپنی 35 سے 40 دن کی مختصر نشوونما کے ہر مرحلے پر اینٹی بائیوٹکس استعمال کرائی جاتی ہیں۔

دہلی کی اس تنظیم نے دہلی اور اطراف کے 16 بازاروں سے مرغ کے 70 نمونے حاصل کئے۔ ہر نمونے کے تین حصوں یعنی ان کے عضلات، جگر اور گردوں میں اینٹی بائیوٹکس موجود ہونے کی جانچ کی گئی۔ اُن اینٹی بائیوٹکس میں جن کاپولٹری فارمنگ میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے چھ اینٹی بائیوٹکس اوکسی ٹیٹرا سائیکلین (Oxytetracycline)، کلوروٹیٹرا سائیکلین (Chlorotetracycline)، ڈوکسی سائیکلین (Doxycycline)، اینروفلیکسین (Enroflaxacine)، سیپروفلیکزیسین (Ciproflaxacine) اور نیومائی سین (Neomycine) شامل تھے۔ ہر نمونے میں ان اینٹی بائیوٹکس کے باقیات اُن کے تینوں حصوں عضلات، جگر اور گردوں میں پائے گئے تھے جن کی مقدار 3.37 سے 131.75 ملی گرام فی کلو تک تھی۔ یہ باقیات 40 فیصدی نمونوں میں ملے تھے جن میں سے 22.9 فیصدی میں صرف ایک اینٹی بائیوٹک جبکہ 17.1 فیصد نمونوں میں ایک سے زائد اینٹی بائیوٹکس موجود تھے۔

نیویارک کے ورلڈلنگ فاؤنڈیشن کے چیف سائنسداں نائیل شلوگر کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کا بار بار یا مسلسل استعمال بہت سی بیماریوں کے بیکٹیریا میں اپنے تئیں قوت مدافعت پیدا کرکے انہیں بے حد قوی بنا دیتا ہے جس کے بعد انہیں قابو کرنا ممکن نہیں ہوتا اور ان کے ذریعے پیدا ہونے والی بیماریاں مہلک اور لاعلاج بن جاتی ہیں۔ مرغ کے گوشت میں موجود ایسے جراثیم انسانوں کے جسم میں منتقل ہوکر انہیں دو طرح سے متاثر کرتے ہیں۔ اول تو ایسے جراثیم کے ذریعے پیدا ہونے والی بیماریاں ختم نہیں ہوتیں کیونکہ کوئی بھی اینٹی بائیوٹک ان پر اثر نہیں کرتا اور دوسرے انسانوں کے جسم میں جو جراثیم بظاہر بے ضرر پڑے رہتے تھے وہ بھی مرغ کے گوشت میں موجود اینٹی بائیوٹکس سے مسلسل رابطے میں رہنے کے بعد قوت مدافعت حاصل کرکے بے حد قوی ہوجاتے ہیں اور تب ان سے بھی جو بیماری پیدا ہوتی ہے اس کا علاج ممکن نہیں رہتا۔

ماہرین اس بات سے فکر مند ہیں کہ جن اینٹی بائیوٹکس کا استعمال مرغیوں کی بیماریاں دور کرنے کے لئے یا پھر ان کی نشوونما کو بہتر بنانے اور اس میں تیزی لانے کے لئے کیا جاتا تھا تاکہ وہ جلد بالغ ہوجائیں، وہی انسانوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مرغ کے گوشت کے ساتھ ان کے باقیات کم خوراکوں کی شکل میں انسانوں کے جسم میں مسلسل پہنچتے رہتے ہیں اور بالآخر قوت مدافعت پیدا کرنے کا باعت بنتے ہیں۔ یہ صورت حال بہت خطرناک ہے جس کے پیش نظر مناسب قدم اٹھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔اس امر کی توثیق کرنے کے لئے کہ پولٹری فارمنگ میں اینٹی بائیوٹکس کے بکثرت استعمال سے انسانوں میں ان کے تئیں قوت مدافعت پیدا ہورہی ہے۔ سینٹر فار سائنس اینڈ ٹیکنولوجی نے 2002 سے 2013 کے دوران ملک کے مختلف گورنمنٹ اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں کئے گئے تیرہ مطالعات کا تجزیہ کیا جس سے پتا چلا کہ ڈوکسی سائیکلین، ٹیٹرا سائیکلین اور سیپرو فلوکزیسین جیسے اینٹی بائیوٹکس کے خلاف قوتِ مدافعت بہت زیادہ تھی۔ بعض مطالعات سے تو پتا چلتا ہے کہ چند بیکٹیریا جیسے سیڈوموناس، انٹیروبیکٹر، اییشیزبچا کولائی اور کلیپ سیلا کے لئے تو سیپروفلوکزیسین مکمل طور پر بے اثر ہوچکی ہے۔

نارائنا ہیلتھ کے بانی اور ماہر قلب سرجن ڈاکٹر شیٹی کا کہنا ہے کہ جلد ہی اینٹی بائیوٹکس کے تئیں قوت مدافعت شعبہئ صحت کے لئے ایک زبردست مسئلہ بن کر ابھرنے والی ہے۔ موجودہ دور میں اعضاء کی پیوند کاری، دل اور دماغ کے پیچیدہ آپریشنز یا پھر کینسر کے لئے کیموتھیراپی وغیرہ میں جو بھی ترقیات ہوئی ہیں وہ بے مثال ہیں لیکن اگر معمولی نوعیت کے بیکٹیریا کی قوت مدافعت ان کے خلاف اینٹی بائیوٹکس کو بے اثر کردے اور معمولی انفکشنز بھی کنٹرول نہ ہوسکیں تو پھر یہ تمام ترقیاں بے معنی ہوکر رہ جائیں گی۔ ڈاکٹر شلوگر کہتے ہیں کہ ایک دق کا مریض ان کے زیر علاج تھا جس کے لئے چھ ماہ کا کورس بھی کافی ہونا چاہئے تھا لیکن اسے دو سال تک ایسی دواؤں کا استعمال کرانا پڑا جنہوں نے اس کی قوت سامعہ اور عصبی نظام کو متأثر کردیا اور بالآخر اس کے پھیپھڑے کے متأثرہ حصے کو میجر آپریشن کے ذریعے نکالنا پڑا۔

جیسے جیسے دوائیں اپنی افادیت کھورہی ہیں نت نئی اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تاہم بدقسمتی سے 1980 کے بعد سے اس میدان میں بہ مشکل ہی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ امریکہ میں تقریباً 2 ملین لوگ اینٹی بائیوٹکس کے تئیں قوت مدافعت کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ایسے لوگوں کے علاج پر شعبہئ صحت کو سالانہ 20 ملین ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

ہندوستان میں اس ضمن میں نہ تو کوئی منظم تحقیق ہی ہوئی ہے اور نہ ہی کچھ اندازے لگائے گئے ہیں۔ البتہ گاہے گاہے جو اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں وہ بہت دہلانے والی ہیں۔ اترپردیش میں بجنور منگلا ہاسپٹل کے وپن وششٹا بتاتے ہیں کہ 2011 (فروری) میں ان کے ہسپتال میں 14 نوزائیدہ بچے آئے جن پر ہر کلاس کے اینٹی بائیوٹکس بے اثر تھے۔ ان میں سے صرف آٹھ ہی کو انتہائی گراں اینٹی بائیوٹکس جیسے اینٹی مکسن۔ بی اور کولِسِٹن کے استعمال سے بچایا جاسکا۔ دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن کے ڈاکٹر گلیریا کہتے ہیں کہ اینٹی بائیوٹکس کے تئیں قوت مدافعت سے دو مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔ اوّل معمولی انفکشن کے لئے زیادہ قوت کی دوائیں درکار ہوتی ہیں اور دوسرے یہ کہ شدید انفکشنز کے لئے دوائیں ہی موجود نہیں ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ اکثر نمونیا اور ٹوبرکلوسِس جیسی بیماریاں بھی مہلک ثابت ہونے لگی ہیں۔ حال ہی میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق ملٹی ڈرگ رزسٹینس یعنی بہ یک وقت بہت سی دواؤں کے تئیں قوت مدافعت والے مریضوں کی تعداد پانچ گنا بڑھ کر 23325 ہوگئی ہے۔

اینٹی بائیوٹکس کے تئیں قوت مدافعت میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ڈاکٹر دیوی شیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے پھیلاؤ کا اصل سبب اینٹی بائیوٹکس سے آلودہ غذا ہے۔ آپ مرغ کھاتے ہیں، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ آپ اینٹی بائیوٹکس کا ایک کورس لے رہے ہوں۔ مچھلی اور شہد جیسی اشیاء بھی اینٹی بائیوٹکس سے آلودہ ہیں۔ غور کیا جائے تو تقریباً ہر کھانے کی چیز میں ان کی آمیزش موجود ہے۔ آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو کبھی ہاسپٹل نہیں گئے اور انہو ں نے کبھی بھی کسی اینٹی بائیوٹک کا استعمال نہیں کیا، پھر بھی ان کے جسم میں ایسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جن میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف قوت مدافعت موجود ہے۔ ظاہر ہے یہ کہاں سے آسکتی ہے۔ اس کا صرف ایک ہی وسیلہ نظر آتا ہے اور وہ ہے غذا اور غذاؤں میں بھی مرغ و مچھلی اور شہد سرفہرست ہیں۔

اس سلسلے میں گورنمنٹ کو یوروپیئن ممالک کی طرح سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یوروپ اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کو مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیتا بلکہ ان کے استعمال کی مقدار متعین کرتا ہے تاکہ وہ جب انسانی جسم میں پہنچے تو اس قابل نہ ہوکہ جراثیم میں قوت مدافعت پیدا کرنے کی وجہ بن جائے۔ ساتھ ہی لوگوں میں ان کے تئیں بیداری پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ جو کچھ کھا رہے ہیں اس میں کیا کچھ موجود ہے اور اس سے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ لوگوں کو اینٹی بائیوٹکس کے بے دریغ یا زیادہ استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں مکمل علم ضروری ہے تاکہ وہ خود ہی ان سے محفوظ رہنے کے اقدامات کرسکیں۔

نوٹ
  • رسالے میں شائع شدہ تحریروں کو بغیر حوالہ نقل کرنا ممنوع ہے۔
  • قانونی چارہ جوئی صرف دہلی کی عدالتوں میں کی جائے گی۔
  • رسالے میں شائع شدہ مضامین میں حقائق واعداد کی صحت کی بنیادی ذمہ داری مصنف کی ہے۔
  • رسالے میں شائع ہونے والے مواد سے مدیر،مجلس ادارت یا ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اب تک ویب سائٹ دیکھنے والوں کی تعداد   135561
اس ماہ
Designed and developed by CODENTICER development