لیزر: نور کا اک بہروپ، اک طلسم
واپس چلیں

ایس ایس علی
اگست 2015
لیزر: نور کا اک بہروپ، اک طلسم
نور کی نوزائیدہ بچوں جیسی ملائمت، معصومیت اور پاکیزگی،پھولوں جیسی نزاکت ۔۔۔۔یہ رنگین طیف، یہ خوبصورت دھنک، شوخ رنگ۔۔۔۔ آنکھوں کے راستے دل میں اتر جانے والے، دماغ کو مسحور کرنے والے حسین نظارے۔۔۔۔یہ کب ہماری جمالیاتی جبلت کی تسکین کرتے ہیں۔۔۔ ہمارے جذبۂ عشق کو مہمیز کرتے ہیں۔۔۔۔وہ عشق جو مادّی آلودگیوں سے پاک ہے۔۔۔۔ یہ عشق کیا ہے؟ اپنے معبود حقیقی کی ذات میں جذب ہوجانے، اپنی ہستی کو فنا فی اللہ کردینے کا ایک داعیہ۔۔۔ ’’سبحان اللہ‘‘۔۔۔۔ بے شک اللہ ساری آلودگیوں، سارے عیبوں اور ساری کمزوریوں سے پاک ہے۔ اللہ ہی نور ہے۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کا نور ۔۔۔۔!
نور کا دوسرا روپ، دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ جبار اور قہار بھی ہے! ہم سورج کو ایک لمحے کے لئے بھی نظر بھر کر نہیں دیکھ سکتے نور کا یہی وہ دوسرا روپ ہے جسے موسیٰ ؑ برداشت نہیں کرسکے اور بے ہوش ہوکر گرپڑے۔ پہاڑ بھی اسے سہار نہ سکا اور ریزہ ریزہ ہوگیا۔ نور اپنی قوت کا اظہار لیزر کی شکل میں بھی کرتا ہے۔ انسان نے اپنی عقل و جستجو اور کوشش پیہم سے لیزر کو بھی رام کرلیا ہے!
سائنس و ٹکنالوجی کی ترقی اور نت نئی ایجادات کے اعتبار سے بیسویں صدی، سہنری صدی ثابت ہوئی ہے۔ ٹیلی گراف، ٹیلی فون، ریڈیو، ٹی وی، ایکس رے، کمپیوٹر، ڈی، این، اے کی ساخت، مصنوعی سیارے، میزائل، موبائل فون، انٹرنیٹ اور فائبر آپٹکس وغیرہ جیسی ایجادات نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ لیزر (Laser) بہت ہی کم عرصے میں لیزر(Laser) نے انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اپنا عمل دخل درج کروالیا ہے۔ اس کی افادیت اور وسعت استعمال نے اسے روزمرہ کی ایک شے بنادیا ہے۔ لہذا لفظ لیزر آج زبان زدِ خاص و عام ہے۔
لیزر مخفف ہے Light Amplification by Stimulated Emission of Radiation کا۔ یہ ایک تکنیک ہے جس میں یکساں طولِ موج کی، ایک ہی سمت میں سفر کرنے والی شعاعوں کی کرنیں تخلیق کی جاتی ہیں۔ شعاعیں مسلسل چلنے والی(Continuous) بھی ہوتی ہیں اور رک رک کر چلنے والی (Pulsed) بھی ہوتی ہیں۔ یہ کرنیں لیزر کہلاتی ہیں۔
کائنات کی ہر شے مادّہ (Matter) سے بنی ہے۔ مادّہ انتہائی مہین ذرات، جواہر (Atoms) پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب کسی جوہر کو کسی شے کے ٹکراؤ (Collision) سے حرارت یا روشنی کی توانائی مہیا کی جاتی ہے تو وہ مشتعل (Excited) ہوجاتا ہے اور توانائی کی بلند سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ حالت عارضی ہوتی ہے۔ پھر جب وہ اپنی اصلی حالت پر واپس آتا ہے تو اپنی اضافی توانائی کو نور (Light) کی صورت میں خارج کردیتا ہے۔ اس طرح نور وجود میں آتا ہے۔
سورج، الیکٹرک بلب وغیرہ سے خارج ہونے والا نور بے قاعدہ (Irregular) ہوتا ہے۔ لہذا مختلف طول موج اور تعدّد کی متعدد شعاعیں مختلف سمتوں میں سفر کرتی ہیں۔ یہ نور غیر پیوست (Incoherent) کہلاتا ہے۔ لیکن لیزر میں تخلیق کی جانے والی شعاعیں پیوست (Coherent) ہوتی ہیں۔ تمام شعاعیں یکساں توانائی کی حامل ہوتی ہیں، سب ایک ہی سمت میں سفر کرتی ہیں اور ایک ہی وقت میں تمام جواہر سے یکساں طور پر خارج (Emit) ہوتی ہیں، اسی لئے انہیں پیوست (Coherent) کہا جاتا ہے۔ لہذا کسی ایک موقعہ(وقت )پر ان شعاعوں کا ارتکاز بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لیزر شعاعیں اتنی شدید (Intense) ہوتی ہیں کہ وہ ہیرے جیسی سخت ترین شے میں بھی سوراخ کرسکتی ہیں!
لیزر شعاعیں جسم سے غیر صحت مند بافتوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ سر جری کے دوران خون کی نالیوں کو سیل کرکے خون کے بہاؤ کو روکنے میں بھی لیزر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آنکھ کا شبکیہ (Retina) مجروح ہوجائے تو اسے ٹھیک مقام پر پیوست کرنے کے لئے لیزر کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔
لیزر کے استعمال کے چند اور علاقے یہ ہیں: مختلف قسم کے مادّوں کی تراش خراش، ذرائع ابلاغ میں سگنلوں کی ترسیل، تیز رفتار فوٹو کاپی مشین، پرنٹرس، سی ڈی اور ڈی وی ڈی، Holography ، قشرۂ زمین کی تبدیلیوں کی نگرانی وغیرہ۔
لیزر کی تین اہم قسمیں ہیں۔ ٹھوس لیزر جو ٹھوس قلموں مثلا یاقوت (Ruby) کی قلمیں یا شیشہ یا نیم موصل کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ گیس لیزر جو کسی ایک گیس یا گیسوں کے آمیزے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہیلیم اور نیون کا آمیزہ یا کاربن ڈائی آکسائیڈ۔ مائع لیزر جو کسی ڈائی (Dye) مثلاً Rholamine کا استعمال کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔

لیزر کی تاریخ
* البرٹ آئن اسٹائن نے 1917 میں لیزر (Laser) اور میزر (Maser) کی نظریاتی بنیاد اپنے مقالے Theory of Radiation On the Quantum میں رکھ دی تھی۔
* 1928میں Rudolf W. Ladenburg نے ہیجانی اخراج (Stimulated Emission) کے مظہر کی تصدیق کردی۔
*1939 میں Valentine A. Fabrikant نے ہیجانی اخراج کے ذریعے مختصر موجوں (Short Waves) کو بڑھانے (Amplify) کی پیش گوئی کی۔
* 1847میں Willis W. Lamb اور R.C. Rutherford نے پہلی مرتبہ ہیجانی اخراج کا عملی تجربہ پیش کیا۔
* 1950 میں Alfred Kastler نے Optical Pumping یعنی جوہر کو توانائی کی بنیادی سطح (Ground Level) سے اعلیٰ سطح پر پہنچانے کا طریقہ ایجاد کیا۔ اس ایجاد پر اسے 1966 کا نوبل انعام دیا گیا۔ اس طریقے کو عملی شکل دو سال بعد Brosell ، Kastler اور Winter نے دی۔
* 1953 میں Charles Townes ، James Gordon اور Herbert Zeiger نے پہلا Microwave Amplifier تیار کیا جو لیزر کے اصول پر کام کرتا تھا۔ اس آلے کے ذریعے Maser کی تخلیق ممکن ہوئی۔ Maser مخفّف (Acronym) ہے Microwave Amplification by Stimulated Emission of Radiation کا۔ MASER میں شعاعوں کا مسلسل اخراج نہیں ہوتا۔
*1955 میں روسی سائنسداں Prokhorove اور Basov نے اس مشکل کو دور کرنے کے لئے Optical Pumping کا طریقہ ایجاد کیا جو بعد میں لیزر کی تیاری میں سنگِ میل ثابت ہوا۔
* 1959میں ایک کانفرنس میں Gordon Gould نے اپنے مقالے The LASER, Light Amplification by Stimulated Emission of Radiation میں پہلی بار مخفف LASER کا استعمال کیا۔
* 16مئی 1960 کو Hughes Research Laboratories Malibu California کے Theodore H. Maiman نے اپنے لیزر میں یاقوت (Ruby) کی قلموں کا استعمال کرکے 694 nm طولِ موج کی سرخ لیزر شعاعوں کی تخلیق کی۔ تاہم یہ شعاعیں وقفہ دار (Pulsed) نوعیت کی تھیں۔
* 1960میں ہی ایران کے ماہر طبیعیات علی جوان (Ali Javan) ، William R. Bennett اور Donald Herriot نے پہلے گیس لیزر کی تیاری میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ہیلیم اور نیون کے آمیزے کا استعمال کرکے زیر سرخ (Infrared) مسلسل لیزر کی تخلیق کی۔ بعد میں علی جوان کو 1963 کے البرٹ آئن سٹائن ایوارڈ سے نوازا گیا۔
* 1962میں Robert N. Hall نے پہلا Diode Laser آلہ بنانے میں کامیابی حاصل کی جس میں گیلیم آرسی نائڈ کا استعمال کرکے 850 nm کے قریب زیرِ سرخ (Near Infrared) لیزر کی تخلیق کی۔ یہ مادہ یعنی گیلیم آرسی نائڈ (GaAs) ایک نیم موصل ٹھوس ہے۔

ہیجانی اخراج (Stimulated Enmission)
1913 میں Niels Bohr نے اپنے جوہری ساخت (Atomic Structure) کا نظریہ پیش کیا اور ہائیڈروجن کے جوہر کی ساخت بیان کی۔ تمام عناصر کے جوہروں کی ساخت بیان کی۔ تمام عناصر کے جوہروں میں ہائیڈروجن سب سے سادہ جوہر ہے۔ یہ ایک مرکزہ (Nucleus) اور ایک پروٹون پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس نے بتایا کہ جواہر کے مرکزی حصے میں وزنی مرکزہ ہوتا ہے جس کے اطراف نہایت ہلکے منفی باردار الیکٹرون مختلف مداروں میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ مرکزہ مثبت بار رکھتا ہے۔ الیکٹرنس کا ہر مدار اپنے جوہر کی توانائی کی حالت (Energy State) کو ظاہر کرتا ہے لہذا مرکزے کے اطراف گردش کرنے والے الیکٹرون مختلف توانائی کی حالتوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب تک الیکٹرون اپنے اپنے مدار میں رہتے ہیں وہ نہ تو توانائی جذب کرتے ہیں او ر نہ خارج کرتے ہیں۔
جب کوئی الیکٹرون اپنی توانائی کی حالت سے گر کر کم توانائی کی حالت پر پہنچ جاتا ہے تو وہ توانائی کی کچھ مقدار خارج کرتا ہے۔ اگر یہ توانائی جوہر کے ذریعہ جذب کرلی جاتی ہے تو ایک الیکٹرون اس توانائی کو حاصل کرکے زیادہ توانائی کی حالت کو پہنچ جاتا ہے۔ اس صورت میں جوہر فوٹون (Photon) کی صورت میں توانائی کا اخراج کرتا ہے۔
بے شمار جواہر یا سالمات اس عمل میں حصہ لیتے ہیں اور ایک نظام (System) وجود میں آجاتا ہے۔ یہ نظام ہیجانی (Stimulated) نظام ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں لیزر شعاعوں کا اخراج ہوتا ہے۔
جواہر اور سالمات کے مشتعل ہونے پر سادہ نور حاصل ہوتا ہے جب کہ ہیجانی کیفیت سے گزرنے پر لیزر حاصل ہوتا ہے۔

یاقوت (Ruby) لیزر
1960میں Maiman نے پہلے لیزر کا مظاہرہ کیا جس کی تیاری میں اس نے یاقوت (Ruby) کی قلموں کا استعمال کیا تھا۔ یاقوت کیمیائی طور پر ایلومینیم آکسائیڈ ہے۔ ان قلموں میں کرومیم کی کثافتیں شامل کی گئی تھیں۔ کثافتیں ملانے کا یہ عمل سائنس کی زبان میں Doping کہلاتا ہے۔(کھلاڑی اپنی کارکردگی میں اضافے کے لئے جن نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں وہ Dopes کہلاتی ہیں) جب یاقوت کی قلموں پر روشنی کا تیز فلیش چمکایا جاتا ہے تو بہت سارے پیچیدہ طبیعیاتی اعمال کے نتیجے میں لیزر کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ شعاعیں 532 nm (سبز) 355 nm (قریب بالائے بنفشی) اور 266 nm (بالائے بنفشی) طولِ موج کی ہوتی ہیں۔ یہ لیزر سبز Pointer وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

گیس لیزر
1960میں ہی Ali Javan اور اس کے ساتھیوں نے Bell Telephone Laboratories, USA میں پہلا گیس لیزر تیار کیا۔ یہ لیزر ہیلیم اور نیون گیسوں کے آمیزے سے تیار کیا گیا تھا۔ بعد میں ہیلیم۔ کیڈیم اور آرگان کرپٹون لیزر بھی تیار کئے گئے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ لیزر بھی وجود میں آیا جسے Bell Labs میں CKN Patel نے ایجاد کیا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ لیزر انتہائی گرم اور طاقتور زیر سرخ شعاعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

کیمیائی لیزر
مندرجہ بالا لیزر یا تو Optical Pumping یا پھر Electrical Discharge کے ذریعے وجود میں لائے جاتے ہیں۔ سائنسدانوں نے نوٹ کیا کہ کیمیائی تعامل کے ذریعے بھی لیزر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ کیمیائی تعامل کے نتیجے میں حاصل ہونے والا لیزر Chemical Laser کہلاتا ہے۔ HBr, HCl, HF اور CO کے نظاموں میں کیمیائی لیزر کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ لیزر بہت زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔ فوج اور صنعت میں ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈائی لیزر
نامیاتی ڈائی لیزر (Organic Dye Laser) اتفاقی طور پر P.P. Sorokin اور J.R. Lankard نے دریافت کیا۔
Choloro -Aluminium-Phtalocyanine نامی کیمیائی مادہ پر رمن کے اثر(Raman Effect) کے مطالعے کے دوران انھوں نے دیکھا کہ یہ ڈائی لیزر کا اخراج کر رہی ہے۔ اسی عرصے میں جرمنی کے P.F. Schafer نے بھی چند Cyanine مرکبوں میں لیزر کے اخراج کا مشاہدہ کیا۔ اس کی یہ ایجاد بھی اتفاقی تھی۔ ڈائی لیزر کا استعمال بڑے پیمانے پر کئی شعبوں میں کیا جاتا ہے۔

نیم موصل لیزر
LED یعنی Light Emitting Diode کا استعمال کرکے لیزر تیار کیا جاسکتا ہے۔ LED میں نیم موصل (Semi Conductor) گیلیم آرسی نائڈ (GaAs)، ایلومینیم گیلیم آرسی نائڈ (ALGaAs) وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مخصوصو طبعیاتی حالات پیدا کرکے LED سے لیزر حاصل کیا جاتا ہے جسے نیم موصل لیزر کہتے ہیں۔
ان کے علاوہ بھی سیکڑوں قسم کے لیزر ایجاد ہوچکے ہیں، مثلاً:
* Free Electron Laser
* Eximer Laser
* Fiber Laser
* Photonic Crystal Laser
* Exocit Laser
* Cosmic Laser

لیزر کے استعمالات
زندگی کے ہر شعبے میں لیزر کا استعمال اتنا زیادہ ہوگیا ہے کہ اسے Ubiquitous کہاجانے لگا یعنی ہر جگہ موجود! ماڈرن سوسائیٹی میں لیزر ہزاروں طرح سے استعمال کیا جارہا ہے اور اس کی افادیت و مقبولیت روز افزوں ہے۔ الیکٹرونکس، انفارمیشن ٹکنالوجی، سائنس، انجینیرنگ، آرٹس، میڈیسن، صنعت، قانون کا نفاذ، تفریح اور فوجی مقاصد لیزر کے استعمال کے بڑے بڑے میدان ہیں۔ ابلاغ (Communication) کے میدان میں لیزر کا استعمال کرکے انٹرنیٹ کی خدمات مہیا کرنا ممکن ہوا ہے۔
1974 میں سب سے پہلے لیزر کا صنعتی پیمانے پر استعمال بار کوڈ ا سکینر (Bar Code Scanner) کی تیاری میں کیا گیا۔ 1982 لیزر ڈسک پلےئر متعارف کرایا گیا۔ اس کے فوراً بعد لیزر پرنٹر مارکیٹ میں اتارا گیا۔ علاوہ ازیں لیزر کے چند اہم استعمالات ذیل کے مطابق ہیں:

1۔ علاج معالجہ:۔
Bloodless Surgeryیعنی ایسی جراحی جس میں خون ضائع نہیں ہوتا۔ کاٹی جانے والی شریانوں اور وریدوں کو لیزر کی مدد سے اسی وقت بند (Seal) کردیا جاتا ہے Laser Healing میں لیزر کی مدد سے زخموں کو بھراجاتا ہے۔ گردوں کی پتھری کا علاج، آنکھ کے شبکیہ اور دوسرے حصوں کی درستگی لیزر کی مدد سے کی جاتی ہے۔ دانتوں کے علاج میں بھی لیزر بہت کارآمد ثابت ہوا ہے۔
2۔ صنعت:۔
بھاری صنعتوں میں دھاتوں کی موٹی موٹی چادروں کو کاٹنا، ویلڈنگ، مادوں پر لیزر کے حرارتی اثرات کا استعمال، مشینوں کے پرزوں کو نشان زد کرنا، بغیر مس کئے پرزوں کی مرمت وغیرہ۔
3۔ فوج:۔
ہدف کو نشان زد کرنا، اسلحہ کی دوران استعمال رہبری، میزائل کی رہبری، ابلاغ، راڈار کا متبادل، دشمن کی فوجوں کے سپاہیوں کی آنکھوں کو چندھیا دینا وغیرہ۔
4۔ قانون کا نفاذ:۔
فورنسِک جانچ، مجرموں کی انگلیوں کے نشانات کی شناخت وغیرہ۔
5۔ تحقیق:۔
تحقیق (Research) کے بے شمار علاقوں میں لیزر کا استعمال کامیابی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ مثلاً
* Spectroscophy
* Laser Scattering
* Laser Albation
* Laser Interferometry
* Laser Annealing
* Lidar
* Laser Capture microdissection
* Fluorescence Microscopy
6۔ معیشت:۔
معیشت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی مصنوعات میں لیزر کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے۔ مثلاً
* Laser Printers
* Optical Discs (CD, DVD etc.)
* Barcode Scanner
* Laser Thermometers
* Laser Pointers
* Bubblegrams
7۔ سجاوٹ اور نمائش:۔
سجاوٹ کے علاوہ جاذب نظر اور دلکش لائٹ شوز میں لیزر کا استعمال کیا جاتا ہے۔
8۔ کاسمیٹک سرجری:۔
خوبصورتی بڑھانے کے لئے کی جانے والی پلاسٹک سرجری، کاسمیٹک سرجری کہلاتی ہے۔چہرے سے کیل مہاسوں کو دور کرنے ، غیر ضروری بالوں کو ہٹانے، داغ دھبے مٹانے اور جھریوں کو دور کرنے کے لئے پلاسٹک سرجری میں لیزر کا استعمال کیا جاتا ہے۔
9۔ لیزر بطور ہتھیار:۔
مخالف افواج کے کیمپوں میں لیزر کی مدد سے دور ہی سے آگ لگا دینا، لیزر کا بطور ہتھیار استعمال ہے لیکن عالمی سطح پراس پر پابندی عائد کردی گی ہے۔ بطور ہتھیار اس کے دوسرے استعمالات یہ ہیں: مخالف فوجوں کو اندھا کردینا(اس پر بھی پابندی عائدکی گئی ہے)، میزائل اور جہاز فضا میں ہی اڑادینا وغیرہ۔
10۔ بزنس:۔
لفظ لیزر نہ صرف لیزر شعاعوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ لیزر کا اخراج کرنے والے آلات کے لئے بھی یہ لفظ مستعمل ہے۔ لہذا لیزر کی بڑھتی ہوئی مانگ کے چلتے اب یہ کروڑوں، اربوں کا بزنس بن چکا ہے۔

لیزر کے خطرات
لیزر ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اپنے بے شمار استعمالات اور افادیت کے باوجود لیزر کسی بھی صورت میں محفوظ نہیں ہے۔ 1960 میں ایجاد کردہ پہلا لیزر کافی نقصان دہ تھا۔ اس کے موجد Theodore Maiman نے اپنے اس لیزر کی قوت کو ایک جیلیٹ (One Gillette) سے تعبیر کیا تھا، کیوں نہ وہ ایک جیلیٹ ریزر بلیڈ کو جلادینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ آج یہ بات یقینی مانی جاتی ہے کہ کمزور سے کمزورلیزر جس کا آؤٹ پُٹ چند ملی واٹ ہی کیوں نہ ہو، جب وہ بلا واسطہ یا بالواسطہ آنکھ پر پڑتا ہے تو وہ شبکیہ (Retina) کو نقصا ن پہنچاتا ہے۔
لیزر کے خطرات کے پیش نظر مختلف لیزرس کو مختلف جماعتوں میں رکھا گیا ہے جو ذیل کے مطابق ہیں:
(1) Class-1 Laser:۔
یہ مکمل طور پر محفوظ ہے کیوں کہ اس کا استعمال بند آلات میں ہوتا ہے مثلاً سی ڈی پلیر۔
(2) Class-2 Laser:۔
عام استعمال کے دوران یہ بھی محفوظ ہیں اور استعمال کے دوران آنکھ جھپکنے کے عمل سے ان کے ذریعے ہونے والے نقصان کی بھرپائی ہوجاتی ہے۔ مثلاً لیزر پرنٹر۔
(3) Class-3a Laser:۔
یہ بھی کافی حد تک محفوظ ہے لیکن اسے بغیر آنکھ جھپکائے چند سیکنڈ تک دیکھنے سے شبکیہ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے۔
(4) Class-3b Laser:۔
فی الفور آنکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
(5) Class-4 Laser:۔
جلد کو جلا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آنکھ کو یقینی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں۔ صنعتی لیزر اور سائنسی لیزر اس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔
لیزر پر کام کرنے والے خاص قسم کی عینک کااستعمال کرتے ہیں جو لیزر کو جذب کرلیتے ہیں اور آنکھیں محفوظ رہتی ہیں۔

لیزر سے متعلق جدید تصورات
لیزر کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کی پیدائش سے ہی اسے مختلف مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے لئے اس میں بے شمار تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ آج ہر ایک لیزر کی اپنی انفرادی خصوصیات ہیں، مخصوص استعمال ہیں۔ تخصیص (Specialization) کے اس زمانے میں لیزر بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے!لیزر میں تحقیق و تخصیص کے چند علاقے یہ ہیں:
* New Wavelength Bands
* Maximum Average Output Power
* Maximum Peak Pulse Energy
* Maximum Peak Pulse Power
* Maximum Output Pulse Duration
* Maximum Power Efficiency
* Maximum Cost
لیزرمیں تحقیق کے بے شمار علاقے کھلے ہوئے ہیں۔ سائنسداں شب و روز تحقیق و ایجاد میں جٹے ہوئے ہیں۔ سائنسدانوں کے پیش نطر زیادہ سے زیادہ صلاحیت، کم سے کم لاگت اور زیادہ سے زیادہ محفوظ والے لیزر کی ایجاد ہے۔

نوٹ
  • رسالے میں شائع شدہ تحریروں کو بغیر حوالہ نقل کرنا ممنوع ہے۔
  • قانونی چارہ جوئی صرف دہلی کی عدالتوں میں کی جائے گی۔
  • رسالے میں شائع شدہ مضامین میں حقائق واعداد کی صحت کی بنیادی ذمہ داری مصنف کی ہے۔
  • رسالے میں شائع ہونے والے مواد سے مدیر،مجلس ادارت یا ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
You are visitor no.   20517
اس ماہ
Designed and developed by Dr Aqeel Ahmad (9810832202) and Mohd Mukarram (7503317010)