رات اندھیری کیوں؟
واپس چلیں

ایس ایس علی
مئی 2015
رات اندھیری کیوں؟
علی گڈھسورۂ بقرہ کی آیت نمبر 164 ایک طویل آیت ہے جس میں کئی مضامین بیان کئے گئے ہیں، جن میں سے ایک مضمون یہ ہے:
’’بے شک رات اور دن کی گردش میں عقلمندوں کے لئے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔‘‘
رات کے ساتھ ظلمت (اندھیرے) کا اور دن کے ساتھ ضیاء (نور) کا تعلق اس تسلسل سے چل رہا ہے کہ عام طور پر اس کی طرف ذہن ملتفت نہیں ہوتا۔ زمین کی محوری گردش ہر چوبیس گھنٹوں میں رات اور دن کو جنم دیتی ہے۔ زمین کا جو رخ سورج کے سامنے ہوتا ہے وہاں دن ہوتا ہے اور جو رخ سورج کے سامنے نہیں ہوتا وہاں رات ہوتی ہے۔ گویا سورج کی غیر موجودگی اندھیرا ہونے کی ذمہ دار ہے۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے، لیکن۔۔۔
اندھیری رات میں آسمان میں بے شمار ستارے جھلملاتے نظر آتے ہیں۔ ان کی روشنی سے آسمان اور زمین منور کیوں نہیں ہوتے؟ ہمارا سورج تو صرف ایک ستارہ ہے، جب وہ دن کے وقت آسمان و زمین اور ساری فضا کو منور کرسکتا ہے تو پھر یہ لاکھوں، کروڑوں ستارے مل کر رات کے وقت نور کیوں نہیں بکھیرتے؟
اس کی وجہ عام طور پر یہ بتائی جاتی ہے کہ ستارے زمین سے بہت زیادہ دوری پر واقع ہیں، زمین تک پہنچتے پہنچتے ان کی روشنی اتنی مدھم ہوجاتی ہے کہ وہ زمین کو روشن نہیں کرپاتی۔ بہت زیادہ دوری پر واقع ستاروں کی روشنی مدھم پڑجانے کی وجہ کیا ہے؟
اسے سمجھنے کے لئے معکوس مربعی قانون (Inverse Square Law) کو سمجھنا ہوگا۔

معکوس مربعی قانون
کسی منبئ نور سے چلنے والی روشنی کی شدت (Intensity) اس کے ذریعہ طے کردہ فاصلے کے مربع کے معکوس تناسب میں ہوتی ہے۔ یعنی فاصلے میں اضافے کے ساتھ نور کی شدت کم ہوتی جاتی ہے۔ اس قانون کو اس طرح ظاہر کیا جاتا ہے:
1 نور کی شدت
2فاصلہ
یعنی
1 Intensity
Distance2
بہت زیادہ فاصلہ طے کرنے کے بعد نور کی شدت اتنی کم ہوجاتی ہے کہ وہ کسی جسم کو منور نہیں کرپاتا۔ یہی وجہ ہے کہ رات کے وقت آسمان میں بے شمار ستارے آسمان وزمین اور فضا کو روشن نہیں کرپاتے اور راتیں اندھیری ہوتی ہیں۔ لیکن۔۔۔۔
کسی ایک ستارے سے آنے والی روشنی بے شک زمین کے چھوٹے سے چھوٹے حصّے کو بھی روشن کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ لیکن آسمان میں تو لاکھوں کروڑوں ستارے موجود ہوتے ہیں۔ کسی ایک ستارے سے آنے والا نور ہر چند کہ بہت کم ہوتا ہے لیکن کسی بھی حالت میں وہ صفر نہیں ہوتا۔ تو پھر ان لاکھوں کروڑوں ستاروں سے آنے والا نور زمین و آسمان کو روشن کرنے کے لئے کافی ہونا چاہئے، بلکہ دن کے مقابلے میں رات کئی گنا زیادہ روشن ہونی چاہئے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ رات بہر حال اندھیری ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک معما ہے جسے اولبرس کا معما (Olbers' Paradox) کہتے ہیں۔

اولبرس کا معما
آسمان میں بے شمار ستاروں کی جھلملاہٹ کے باوجود رات اندھیری کیوں؟ اس بات کو سب سے پہلے سوئٹزرلینڈ کے ایک گاؤں لوسانے(Lausanne) کے ایک شخص JPL de Cheseaux نے سنجیدگی کے ساتھ نوٹ کیا۔ خوب غور و خوض اور تدبر کے باوجود وہ اس پہیلی کو سلجھانے میں ناکام رہا۔
1823میں جرمنی کے فلسفی اولبرس (Olbers) نے دوری پر واقع ستاروں کے ’’نورِ پس منظر‘‘ (Background Light) کا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ رات کے وقت آسمان دن کے مقابلے میں بہت زیادہ روشن ہونا چاہئے۔ اول برس کے اخذ کردہ اس نتیجے کو اولبرس کا معما کہتے ہیں۔
اجرام فلکی سے آنے والے نور کے راستے میں زمین کی فضا حائل ہوتی ہے۔ فضا نور کی کچھ مقدار جذب کرتی ہے۔ لیکن لاتعداد ستاروں سے خارج ہونے والے نور کے مقابلے میں فضا میں جذب شدہ نور ناقابلِ ذکر ہے۔ اس سیاق میں بھی بات وہیں کی وہیں رہتی ہے، یعنی رات اندھیری کیوں؟

تین مفروضے
ایک صدی سے زیادہ عرصے اولبرس کا معمالانیحل ہی بنا رہا۔ اس کی وجہ تین مفروضے تھے:
(1) کائنات میں ستارے یکساں طور پر (Uniformly) بکھرے ہوتے ہیں۔
(2) ستارے یکساں طور پر نور کا اخراج کرتے ہیں۔
(3) ستارے اپنی جگہ پر قائم ہیں۔
جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ ستارے یکساں طور پر بکھرے ہوئے نہیں ہیں۔ لیکن کہکشائیں جوکہ ستاروں، گیسوں اور دھول پر مشتمل ہیں، کائنات میں یکساں طور پر بکھری ہوتی ہیں۔ لہذا یہ مفروضہ اولبرس کے معمے پر اثر انداز نہیں ہوتا۔
ستارے یکساں طور پر نور کا اخراج کریں یا نہ کریں، معما قائم ہی رہتا ہے۔
اگر تیسرا مفروضہ زیر غور لایا جائے تو معما آسانی سے حل ہوجاتا ہے۔ آج ہم یہ جانتے ہیں کہ کہکشائیں لگاتار ایک دوسرے سے دور ہوتی جارہی ہیں یعنی کائنات لگاتار پھیل رہی ہے۔ کائنات کے پھیلنے کا عمل دو طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے۔
(1) ایک دوسرے سے دور ہوتی ہوئی کہکشاؤں کا نور سرخ رنگ اختیار کرلیتا ہے۔ اس مظہر کو ’’ سرخ جھکاؤ‘‘ (Redshift) کہتے ہیں۔
(2) کہکشائیں بہت زیادہ دور ہونے کی وجہ سے ،معکوس مربعی قانون کے مطابق ان کے نور کی شدت کم ہوجاتی ہے۔
اولبرس کے مطابق رات کے وقت بہت زیادہ روشنی ہونی چاہئے، لیکن درحقیقت کہکشاؤں کی حرکت ان کے نور کو پورے طور پر منقطع کردیتی ہے!

Redshift کیا ہے؟
کسی جِرم فلکی کے نور کے طولِ موج (Wavelength) کا طویل طول موج (سرخ) کی جانب جھک جانا ’’سرخ جھکاؤ‘‘ (Redshift) کہلاتا ہے۔ایسا اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب کوئی جرم فلکی،ناظر (Observer) سے تیز رفتاری کے ساتھ دور ہوتا جاتا ہے۔ کسی جرم فلکی کے Redshift کی مقدار اس کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔ 1929 میں Edwin Hubble نے دریافت کیا، کہ کہکشائیں تیز رفتاری کے ساتھ ایک دوسرے سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ کہکشاؤں کا سرخ جھکاؤ زمین سے بڑھتے ہوئے فاصلے کے ساتھ یکساں طور پر بڑھتا ہے۔
کسی کہکشاں کا زمین سے فاصلہ ناپنے کے لئے اس کے سرخ جھکاؤ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
سرخ جھکاؤ کے نتیجے میں مرئی نور (Visible Light) غائب ہوجاتا ہے اور بعید ترین کہکشاؤں اور ستاروں کی روشنی زمین تک نہیں پہنچتی۔ اس لئے رات کے وقت اندھیرا چھا جاتا ہے۔

غلطی کہاں ہوئی؟
اولبرس کے زمانے میں کائنات کے بارے میں یہ تصور رائج تھا کہ وہ غیر متحرک (Static) ہے۔
ایڈون ہبل (Edwin Hubble)نے پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا کہ کائنات متحرک ہے اور یہ کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ یہی وہ انکشاف ہے جس نے اولبرس کے معمے کو حل کردیا۔
ہبل کے سرخ جھکاؤ کی بنیاد پر ’’رات اندھیری کیوں؟‘‘ کے معمے کو آسٹریلیا میں جنمے برطانوی ریاضی داں ہرمن بونڈی (Hermann Bondi) نے حل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

ظلمت ہی اصل ہے
اپنے کلامِ حکمت قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
3
(اور ایک نشانی ہے ان کے واسطے رات، کھینچ لیتے ہیں ہم اس پر سے دن کو، پھر تب ہی یہ رہ جاتے ہیں اندھیرے میں)
(یٰس :37 )
اس آیت کی تفسیر میں حضرت مفتی محمد شفیع ؒ فرماتے ہیں:
’’سلخ کے لفظی معنی کھال اتارنے کے ہیں۔ کسی جانور کے اوپر سے کھال یا دوسری چیزوں پر سے غلاف اتاردیا جائے تو اندر کی چیز ظاہر ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال میں اشارہ فرمایا ہے کہ اس جہان میں اصل تو ظلمت اور اندھیرا ہے، روشنی عارضی ہے۔ تقدیرنظام میں مقررہ وقت پر یہ روشنی جو دنیا کی اندھیری پرچھائی ہوئی ہوتی ہے، اس کو اوپر سے ہٹالیا جاتا ہے تو ظلمت وتاریکی رہ جاتی ہے۔
اسی کو عرفِ عام میں رات کہا جاتا ہے۔‘‘
بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ پس۔۔۔۔
اے مری روح
تو عبث ہی بھٹکتی پھرتی ہے
یہ تیری آرزوئیں
تو مجھ سے دور ہوتی ہوئی
’’ہزاروں خواہش ایسی
کہ ہر خواہش پہ دم نکلے‘‘
اف یہ بڑھتی ہوئی طولِ موج کیا تجھے
Redshiftسے ڈر نہیں لگتا؟
اپنے پرِ پرواز کو
کچھ تو لگام دے
اپنی طولِ موج پر
قدغن لگا
کر مراجعت اور پالے سراغ
اسی نور حقیقی کا
جو تیرا بھی خالق ہے اور میرا بھی
اے مری روح
جا۔۔۔ اسی نور میں گم ہوجا
تاکہ میں جھوم اٹھوں
نورٌ علیٰ نور
(بقیہ اداریہ)

اس تکنیک کو’’جرم لائن ایڈیٹنگ‘‘ (Germline Editing) یا ’’جین ایڈیٹنگ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جس طری ایڈیٹر مسوّدے میں تبدیلی کرکے اُس کو کچھ کا کچھ بنا سکتے ہیں،آپ بھی حروف کی ترتیب بدل کر AMU کو UMA اور RAM کو ARM بنا سکتے ہیں، اسی طرح اس تکنیک کی مدد سے جینز (Genes)کو تبدیل کرکے کچھ کا کچھ بنادیا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی مردانے جنسی سیل، اسپرم (Sperm) میں بھی کی جاسکتی ہے اور مادہ کے جنسی سیل، بیضہ (Egg) میں بھی اور اُن سے مل کر وجود میںآنے والے جنین یا ایمبریو (Embryo) میں بھی ۔ اس تکنیک کا خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ یہ نسل در نسل چلے گی اور تبدیل شدہ جین آگے جاکر کیا نتائج پیدا کرے، یہ اندازہ بھی ابھی نہیں کیا جاسکتاہے۔ اخلاقی نقطۂ نظر سے بھی اگر دیکھیں تو ہم اپنی اگلی نسل میں ایک ایسی تبدیلی پیدا کررہے ہیں جس کے لئے ہم نے اُن سے اجازت ہی نہیں لی ہے اور جس کے نتائج اُن کی آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی۔ اگر لینفیئر جیسے سائنسدانوں کی آواز آج دبا دی گئی اور یہ تحقیقات اسی طرح چلتی رہیں تو یہ نسل انسانی کی نئی تباہی کا آغاز ہوگا جس کا انجام سوچنا بھی مشکل ہے۔
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز
16 اپریل 2015 لاس اینجلز، امریکہ

نوٹ
  • رسالے میں شائع شدہ تحریروں کو بغیر حوالہ نقل کرنا ممنوع ہے۔
  • قانونی چارہ جوئی صرف دہلی کی عدالتوں میں کی جائے گی۔
  • رسالے میں شائع شدہ مضامین میں حقائق واعداد کی صحت کی بنیادی ذمہ داری مصنف کی ہے۔
  • رسالے میں شائع ہونے والے مواد سے مدیر،مجلس ادارت یا ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
You are visitor no.   20510
اس ماہ
Designed and developed by Dr Aqeel Ahmad (9810832202) and Mohd Mukarram (7503317010)